فوج سیاسی معاملے میں مداخلت

فوج آئندہ کسی بھی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

ویب ڈیسک : جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی پروقار تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج آئندہ کسی بھی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ فوج کی سیاست میں مداخلت تنقید کی بڑی وجہ ہے،فروری میں طے کیا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اور آئندہ بھی اس پر عمل پیرا رہے گی۔ اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بطور آرمی چیف آخری خطاب کر رہا ہوں.
آرمی چیف نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں 6سال اس فوج کاسپہ سالار رہا۔انہوں نے کہا کہ فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کرنا ہے لیکن پاک فوج ہمیشہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنی قوم کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہے، ریکوڈک کا معاملہ ہو یا کارکے کا جرمانہ، فیٹف کے نقصان ہوں یا ملک کو وائٹ لسٹ سے ملانا یا فاٹا کا انضمام کرنا، بارڈر پر باڑ لگانا ہو یا قطر سے سستی گیس مہیا کرانایا دوست ملکوں سے قرض کا اجرا کرانا ہو، کووڈ کا مقابلہ یا ٹڈی دل کا خاتمہ، سیلاب کے دوران امدادی کارروائی ہو، فوج نے ہمیشہ اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے اور انشااللہ کرتی رہے گی۔انھوںنے مزیدکہا کہ فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے، وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ دینے والوں کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔
آرمی چیف نے کہا کہ میں آج ایک ایسے موضوع پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں جس پر عموما ً لوگ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور یہ بات 1971 میں ہماری فوج کی سابقہ مشرقی پاکستان میں کارکردگی سے متعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہاں پرکچھ حقائق درست کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں بلکہ ایک سیاسی ناکامی تھی۔قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے ساتھ شہدا کے لواحقین اور غازی بھی شریک تھے۔

مزید دیکھیں :   کمزورحکومت بنانے سے جنرل باجوہ کی توسیع تک عمران کی غلطیاں