چوری اور سینہ زوری

ارمڑ میں پیسکو کی ٹیم کو بجلی چوروں کے خلاف آپریشن پر مقامی آبادی کی جانب سے یرغمال بنا کر ان پر تشددکرنے کا عمل ناقابل معافی اور سخت کارروائی کا متقاضی امر ہے۔ہمارے نمائندے کے مطابق پشاور کے علاقے ارمڑ میںپیسکوکی ٹیم نے گزشتہ روز چوروں کے خلاف آپریشن پراہالیان علاقہ پیسکو ٹیم پر دھاوا بول دیا پیسکوملازمین پر شہریوں نے تشدد کیا عملے کو گالم گلوچ کے دوران زد و کوب کیا گیا اور ان کے موبائل بھی توڑ دیئے گئے جس کے بعد حالات بے قابوہونے پر آپریشن روک دیاگیا۔آپریشن میں ارمڑ تھانہ پولیس بھی موقع پر موجود تھی تاہم بجلی چوروں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی۔ آپریشن کے دوران مقامی لوگوں نے کنڈہ ہٹائو مہم زبردستی رکوادی۔امر واقعہ یہ ہے کہ پہلے پہل پیسکوکے عملے کی جانب سے بجلی چوروں کے خلاف آپریشن تو درکنار بجلی چوروں کی معاونت معمول بن گیا ہے جس میں نیا میٹر لگا کر پرانا ریکارڈ ملی بھگت سے ایک طرف کرنے کا عمل مبینہ طور پرسرفہرست بتایا جاتا ہے بہرحال اس وقت بجلی چوری کی روک تھام اور کنڈے ہٹانے کی مہم میں پیسکو اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا اور پولیس کی طرف سے ان کے تحفظ میں ناکامی کا معاملہ زیر نظر ہے اس طرح کے واقعات اب معمول بن چکے ہیں اور پیسکو اہلکار عدم تحفظ کے باعث بجلی چوری اور کنڈے ہٹانے کی مہم موثر طور پر انجام نہیں دے پاتے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ اب جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا انتظام و انصرام صوبوں کے حوالے کرنے پر کام ہو رہا ہے جو صوبائی حکومتوں کے لئے بڑا چلنج ثابت ہو گا کہ یا تو بجلی کی چوری کی روک تھام یقینی بنائیں یا پھر خسارہ بھگتنے کے لئے تیار رہیں بہرحال قطع نظر اس معاملے کے پولیس کی بھاری نفری اور بوقت ضرورت ایف سی لگا کر منظم طور پر بجلی چوری کی روک تھام کی جائے اور جہاں بھی مزاحمت ہو وہاں پوری سختی اور طاقت کے استعمال سے گریز نہ کیا جائے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں یا پھر بجلی مکمل بند کرکے مذاکرات اور کنڈے ہٹانے کے بعد بحال کیا جائے چوری کی روک تھام کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے سے دریغ نہیں کیا جانا چاہئے۔بجلی چوری کی روک تھام کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں کی وصولی اور بلوں کی ادائیگی سے بجلی کی فراہمی مشروط کرنے کا عمل سختی سے اختیارکیا جانا چاہئے تاکہ لائن لاسز اور خسارے میں کمی لانے کی راہ ہموار ہو۔دوسری جانب پیسکو عملے کی ملی بھگت اور بلاوجہ بجلی کی بندش کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تاکہ حقیقی صارفین متاثر نہ ہوں۔

مزید پڑھیں:  حکومتی کارکردگی کا امتحان شروع