سمگلنگ کی مؤثرروک تھام

حکومت خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کارخانوں کی چیکنگ اور سڑکوں پر مشترکہ چیک پوائنٹس کے قیام کی منصوبہ بندی کرلی ہے اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے ٹاسک فورس قائم کرکے کھاد گندم آٹا کرنسی تیل اور چینی کی سمگلنگ پر قابو پانے کی حکمت عملی تیارکرلی ہے۔ شوگر ملز اور یوریا کی صنعتوں تیل ڈیوز ڈیلرز اور سرحدی علاقوں کے بارے میں بھی اقدامات کا ہدف طے کرلیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک سے مختلف اشیاء کی سمگلنگ میں تیزی آنے کے حوالے سے ملنے والی خبروں کے بعد جس طرح اندرون ملک ان اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کی سمگلنگ سے بھی اندرون ملک ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ابھی ایک روز پہلے ہی چینی کی ایک بوری میں ایک ہزارروپے اضافے کے بعد کھلی مارکیٹ میں چینی کے نرخ بڑھ گئے ہیں اور مہنگائی سے پریشان عوام پر بجلی اور پٹرول بم کے بعد اسے ایک اور یعنی چینی بم قرار دیا جارہا ہے۔ اسی طرح یوریا کھاد گندم آٹا وغیرہ کے نرخوں میں بھی اضافہ عوام کیلئے پریشانی کا باعث بن رہاہے۔ مستزاد یہ کہ ان اشیاء کی افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کی جانب سمگلنگ ایک اور افتاد کا باعث ہے۔ اس حوالے سے بعض الزامات ان اشیاء کی ملی بھگت سے سمگلنگ کو قرار دیا جارہا ہے جس میں بڑی حد تک سچائی کے عنصر کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے مشترکہ اور انتہائی مؤثر ٹاسک فورس کا قیام ضروری تھا اب جبکہ اس حوالے سے نہ صرف فیصلہ کرلیا گیا ہے بلکہ اسے عملی صورت بھی دیدی گئی ہے توامید کی جاسکتی ہے کہ مجوزہ ٹاسک فورس جو مختلف اداروں کے ارکان پر مشتمل ہے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سمگلنگ کی روک تھام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی اور سمگلنگ کی بیخ کنی کرکے نہ صرف ملک کے اندر ان اشیاء کی مصنوعی قلت ختم کرنے اور ان کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنے کیلئے ضروری اقدام اٹھائے گی اور ملکی خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے آگے بند باندھ کر ملکی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنے میں کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں:  انہونیوں کے موسم کی دستک