چارسدہ، اے این پی کا انتخابی دھاندلی کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

ویب ڈیسک: ضلع چارسدہ میں انتخابی دھاندلی کے خلاف اے این پی کا احتجاجی مظاہرہ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین، صوبائی صدر ایمل ولی خان، جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔
دھاندلی زدہ انتحابات کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے چیف جسٹس سے انتخابی دھاندلی کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی کے بدلے کروڑوں روپے رشوت لینے کے ثبوت موجود ہیں۔ ذاتی لالچ کے لئے پارلیمان میں جانا نہیں چاہتا-
انتخابی دھاندلی کے حوالے سے چارسدہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ہم امن بانٹنے والے عدم تشدد کے علمبردار ہیں-
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد خدائی خدمتگاروں کی حکومت گرا کے مسلم لیگ کے قیوم خان کو دی جاتی ہے۔ جب اسکے خلاف احتجاج کیا جاتا یے تو بابڑہ میں 600 خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا جاتا ہے-
اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ ریاست اور قوم کیلئے کھبی نہیں جھکے۔ ہم آج بھی دہشت گرد کو دہشت گرد کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنگ وسائل اور اختیار کی ہے جبکہ طاقت کا محور عوام ہیں لیکن اس بار سے انکار کیا جاتا ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ بلوچ، پختون اور کشمیر والے غلام ہیں جبکہ اگر آزاد ہے تو صرف پنجاب اور سندھ والے۔
چارسدہ میں احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوم کی خاطر مصیبتیں اور مشکلات برداشت کیں، اگر اس حوالے سے کوئی گرفتار کرنا چاہتا ہے تو رات کو گھروں پر چھاپوں کی بجائے ایک فون کال کر دے خود حاظر ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ انتخابی دھاندلی کی جوڈیشل انکوائری کریں۔ الیکشن میں کامیابی کے بدلے کروڑوں روپے رشوت لینے کے ثبوت موجود ہیں۔
یاد رہے کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف دوسرا مظاہرہ فاروق اعظم چوک چارسدہ میں جاری ہے۔

مزید پڑھیں:  فلسطینی قیدی بدترین تشدد کے بعد رہا، ہسپتال منتقل