ناسا کا نِیکون کے ساتھ جدید خلائی کیمرا بنانے کا معاہدہ

واشنگٹن: جاپان کی کیمرا ساز کمپنی نیکون امریکی خلائی ادارے ناسا کے ساتھ مل کر آئینے کے بغیر (مِرر لیس) کیمرے پر کام کر رہی ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے خلاء نورد آئندہ بھیجے جانے والے آرٹیمس تھری مشن کے چاند پر اترنے کو عکس بند کر سکیں گے۔
ناسا کی جانب سے کیے جانے والے اعلان میں بتایا گیا کہ ادارے کا کمپنی کے ساتھ ہاتھ میں تھامے جانے والے یونیورسرل لونر کیمرا (ایچ یو ایل سی) بنانے کا ایک اسپیس ایکٹ معاہدہ طے پایا ہے۔ یہ ایک ایسا کیمرا سسٹم ہوگا جس کو کم روشنی میں تصویر کشی کرنے اور چاند کے سخت ماحول میں صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے بنایا جائے گا۔
آرٹیمس تھری (جس کی لانچ ستمبر 2026 سے قبل ممکن نہیں) میں جانے والا عملہ چاند کے جنوبی قطب کا معائنہ کرے گا۔ یہ چاند کا وہ علاقہ ہے جہاں بڑی بڑی پہاڑیوں کے سبب بننے والے سائے میں چھپے گڑھوں میں پانی سے بنی برف موجود ہے۔
یہ چیز اس علاقے میں سائنس دانوں کی دلچسپی کا سبب بنتی ہے لیکن شدید روشنی اور درجہ حرارت کی وجہ سے آلات کے استعمال میں مخصوص تکنیکی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
نیکون کا فل فریم زی 9 فلیگ شپ اس معاہدے سے پہلے ہی تھرمل، ویکیوم اور ریڈی ایشن کی آزمائش سے گزر چکا ہے، جس کا جدید ورژن کا کیمرا نیکور لینسز کے ساتھ ایچ یو ایل سی سسٹم کی بنیاد بنائے گا۔
ایچ یو ایل سی ڈیزائن میں ناسا کی بنائی گئی تھرمل چادریں بھی شامل ہوں گی جو کیمرا کو غبار اور شدید درجہ حرارت بچائیں گی اور اس میں جدید برقی پرزے ہوں بھی ہوں گے جو شعاعوں کے ذریعے ہونے والے ممکنہ مسائل کو کم کریں گے۔
جدید بٹن کے ساتھ کیمرا کو ایک مخصوص گرپ بھی دی جائے گی تاکہ خلائی لباس پہنا عملہ کیمرا کو دستانوں میں باآسانی استعمال کر سکے۔

مزید پڑھیں:  بھارت میں کورونا وبا سے سب سے زیادہ اموات مسلمانوں کی ہوئیں، رپورٹ