فرانس سے تعلقات توڑنے کا نقصان فرانس کو نہیں صرف ہمیں ہوگا-وزیراعظم عمران خان

ویب ڈیسک:قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس سے تعلقات توڑنے کا نقصان فرانس کو نہیں صرف ہمیں ہوگا، بڑی مشکل سے ملکی معیشت اوپر جانے لگی ہے، روپیہ مستحکم ہورہا ہے، چیزیں سستی ہورہی ہیں، اگر فرانس سے تعلق توڑا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم یورپی یونین سے تعلق تورڑیں گے اور ایسا کرنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا کیوں کہ پاکستان کی آدھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یورپی ممالک میں ہوتی ہیں۔جب ٹیکسٹائل سیکٹر پر دباؤ آئے گا تو روپیہ گرے گا، مہنگائی ہوگی، بے روزگاری بڑھے گی، نقصان ہمیں ہی ہوگا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ شان رسالت ﷺ میں گستاخی سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جو کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا مقصد ہے وہی میرا مقصد ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ٹی ایل پی کے ساتھ دو ڈھائی مہینے سے اس معاملے پر بات چیت جاری تھی، ان کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنے سے نقصان ہمارا ہی ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں، ہم معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کررہے تھے لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ نچلی سطح پر یہ لوگ اسلام آباد آنے کی تیاری کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ سفیر کی ملک بدری ہی ہے، اس کے بعد ان سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اس معاملے کو اسمبلی میں لائیں گے۔ مذاکرات کے دوران ہی انہوں نے دھرنے کا اعلان کیا۔ اب تک 40 پولیس کی گاڑیوں کو جلایا گیا ہے۔ لوگوں کی نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ 4 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 800 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 4لاکھ ٹویٹس کا تجزیہ کیا، 70 فیصد ٹویٹس فیک اکاوَنٹس سے کی گئیں۔ 380 بھارتی گروپ تھے جو واٹس ایپ میں فیک نیوز چلا رہے تھے۔

وزیراعظم نے علماء سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ مل کر ان کی تائید کریں کیونکہ یہ سب جو ہورہا ہے اس سے ہمارے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس سے کس کو فائدہ ہوا ہے، کیوں ہندوستان کی ویب سائٹس اس میں کود پڑیں ہیں؟ اس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے صرف قوم کو نقصان ہوا ہے اور مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکتا، جرم کہیں اور ہو ہم اپنے اوپر خودکش حملہ کردیں، یہ کونسی عقل اور سمجھ ہے۔

وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ یہ وقت اکھٹے ہونے کا ہے، ملک بڑی مشکل سے اوپر آرہا ہے، سمت ٹھیک ہے، وقت ملک کو نقصان پہنچانے کا نہیں۔