ہماری پہلی ترجیح دنیا بھر میں ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے اپنے لوگوں کو واپس لانا ہے- وزیر خارجہ

اسلام آباد : زیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت، وزارت خارجہ میں کورونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس. اجلاس میں بیرونی ممالک میں وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کو ممکن بنانے کیلئے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا گیا.وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، ،معاون خصوصی برائے اورسیز پاکستانی سید ذوالفقار بخاری، معاون خصوصی برائے نیشنل سیکورٹی ڈاکٹر معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سیکرٹری ہوا بازی ڈویژن حسن ناصر جامی اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام کی اجلاس میں شرکت. اجلاس میں اعلی عسکری حکام بھی شریک. اس سے قبل منعقد ہونیوالے تین اجلاسوں میں، ہم نے وزارت صحت، ایوی ایشن اتھارٹی، اورسیز ڈویژن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، پی آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے تجاویز لیں اور ان تجاویز پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اسی مقصد کیلئے ہم نے وزارت خارجہ میں فوری طور پر کرایسز مینجمنٹ سیل قائم کیا جو دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہمارے پاس اس وقت بیرون ملک پاکستانیوں کے مکمل اعداد و شمار موجود ہیں. ہم نے ٹسیٹ فلائیٹ پر تمام پروٹوکول کو آزمایا تھاء لینڈ سے آنیوالی ٹیسٹ فلائیٹ پر 170 مسافر لائے گئے اور ان سب کو ٹیسٹ کیا گیا الحمد للہ سب کے سب نیگٹو تھے. ہمیں ایئرپورٹس پر کرونا پازیٹو کیسز کیلئے کوارنٹائین سمیت دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے. اس وقت بہت سے ممالک میں لاک ڈان کی وجہ سے فلائٹس آپریشن معطل ہیں.پی آئی اے کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی تیاریوں کے حوالے سے شرکا اجلاس کو بریفنگ دی گئیٹیسٹنگ اور کوارنٹائین سہولت کے حوالے سے ہماری استعداد کار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف ہمیں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا. مخدوم شاہ محمود قریشیاجلاس میں 4 اپریل کو بین الاقوامی فلائیٹس بحال ہونے کی صورت میں، لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوئی. اس اجلاس میں متفقہ طور پر سامنے آنے والی تجاویز کو نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا