پشاور ہائی کورٹ

شوہر کو شہریت دی جائے، پاکستان سیٹیزن ایکٹ چیلنج

ویب ڈیسک: پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کو غیر آئینی، غیر معقول، خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

درخواست گزار ثمینہ روحی نے اپنی پٹیشن کے ذریعے سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے سیکشن 10(2) کو چیلنج کیا جس کے تحت صرف پاکستانی مردوں کی غیر ملکی بیویوں کو ہی شہریت دی جائے گی اور ایسی پاکستانی خواتین جن کے شوہر غیرملکی ہوں گے کو اسی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ رٹ پٹیشن سینئر وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

وکیل نے استدعا کی کہ سیکشن 10(2) امتیازی ہے اور مرد وںاور خواتین کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کرتا۔

 یہ ان خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث ہے جوغیرملکی مردوںشادی کرتی ہیں اور ان کے شوہروںکو شہریت نہیں دی جاتی اور یہاں تک کہ ویزے بھی مختصر مدت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ درخواست گزار اور دیگر خواتین کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کا گھر ہے جو ایک جیسی ثقافت، زبان وغیرہ رکھنے والے پاکستانیوں کے ساتھ خاص طور پر کے پی اور بلوچستان میں شادیاں کرتے ہیں لیکن صرف مردوں کی غیر ملکی بیویوں کو ہی پاکستان کی شہریت دی جاتی ہے اور خواتین کے غیر ملکی شوہر اس سے محروم ہیں۔

مزید دیکھیں :   شہید جگری دوستوں کی بی ون امتحان میں کامیابی

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر افغان شہری ہے جو کئی دہائیوں سے کویت میں کام کر رہا ہے اور اسے اپنے خاندان یعنی پاکستانی بیوی اور 5 پاکستانی بچوں سے ملنے کے لیے صرف ایک ماہ یا اس سے  کچھ زیادہ دنوں کے لئے ویزا دیا جاتا ہے، ۔ کوویڈ کے بعد اسے پشاور میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ویزا نہیں دیا جا رہا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے سیکشن 10(2) کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، امتیازی، غیر معقول، غیر اسلامی اور ناقابل عمل قرار دیا جائے۔

درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ اس کے شوہر کو شہریت دی جائے جیسا کہ پاکستانی مردوں کی غیر ملکی بیویوں کو دی جاتی ہے اور اسے عارضی طور پر بغیر کسی رکاوٹ کے پشاور میں اپنے خاندان سے ملنے کے لئے ویزا دیا جائے۔