برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں، اب ساری دنیا کی نظریں اس پر ٹکی ہوئی ہیں کہ دنیا کی سپرپاور امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ دنیا کا نظام اپنی پالیسیوں کے مطابق چلانے کیلئے کیا بڑے بڑے فیصلے لے گی۔ یورپ اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کیساتھ امریکہ کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا کردار اب کیا ہوگا؟ جنوبی ایشیا میں امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کیا پالیسی ترتیب دے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم دنیا کیساتھ امریکہ بہادر کے تعلقات کی نوعیت اب کیا ہوگی؟ جو بائیڈن کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو مختلف اندازوں اور زاویوں سے دیکھا اور پرکھا جائے گا تاکہ ہم مسلمان اپنے اپنے ملکوں میں اسی کی پیروی کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو اسی انداز میں ترتیب دے دیں جس سے زیادہ سے زیادہ منفعت کے پہلو نکلتے ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد تقریباً پانچ درجن کے قریب ہے لیکن حامل قرآن اور اسلام کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہم رہنمائی حاصل کرنے کیلئے مغرب کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کے اساس اور دستور کو اپنا راہنما مانتے ہیں، ان کے تہذیب وتمدن کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے ہوئے ہیں، ان کے لباس اور طور طریقوں کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور دنیا میں اسی کو ترقی اور خوشحالی کا معیار سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ جس دنیا کو ہم نے تہذیب سکھائی، سیاست کرنے کا گر سکھایا، معیشت چلانے کا طریقہ بتایا اور سماجی تعلقات استوار کرنے کا ڈھنگ سکھایا آج ہم اسی دنیا سے رہنمائی لینے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا سارا میڈیکل لیٹریچر وہی سے تیار ہوکر آتا ہے، کورونا وائرس کی ویکسین کیلئے پوری مسلم دنیا امریکہ، چین اور مغرب کی طرف آس لگائے بیٹھی ہے۔ ہماری معاشی پالیسیاں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے تیار ہوکر آتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں جہاں پوری دنیا کے سیاسی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں اس کے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں کوئی اسلامی ملک نہ شامل ہے نہ شامل ہونے کا کوئی امکان ہے، اگر کوئی نیا ملک اس باڈی کا نیا رکن بن سکتا ہے تو وہ انڈیا ہی ہوگا۔ ہماری تہذیب میں مغرب کا رنگ جھلکتا ہے اور اسی کو ہی ہم دنیا میں عظمت کا معیار سمجھتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہو رہا ہے کہ آج ہم نے اسلام کے بتائے ہوئے زرین اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر سوشلزم، کیپیٹلزم اور نیشنلزم کا کھوکھلا ڈنڈورا پیٹ دیا ہے۔ آج مسلم دنیا ایک مسلمان وحدت کو چھوڑ کر اپنے بقا کی خاطر مختلف بلاکوں میں بٹ گئی ہے اورخود مسلمان بھی چھوٹے چھوٹے فرقوں میں تقسیم ہوکر اسلام کی اصل روح کو بھول گئے ہیں۔ آج پوری دنیا میں بشمول سعودی عرب کے ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جو کلی طور پر ایک اسلامی مملکت ہونے کا نمونہ پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان پٹ رہے ہیں اور ہم بحیثیت ایک مسلمان قوم بے حسی کی تصویر بنے اس کھیل کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ تھوڑے جارہے ہیں، فلسطین میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، عراق اور شام میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا گیا، لیبیا، چیچنیا میں آگ وآہن کی بارش برسی، ایران کیساتھ کونسا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ یہ سب اس لئے کہ آج ہم اللہ کی رسی کو چھوڑ کر تفرقوں میں پڑ گئے ہیں اور اسلام کے اصل روح کو بھول گئے ہیں۔ قرآن مجید میں سورہ بقرہ کے آیت85 میں بڑی صراحت کیساتھ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ''جوکوئی مسلمان قوم اور مسلمان اُمت اس کی شریعت (اسلام) کو اس کی پوری روح کیساتھ اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے اور اس کے بعض حصوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں تو اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں وہ ذلیل وخوار کر دئیے جائیں اور قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں جھونک دئیے جائیں'' آج ہم اسی آیت کی زندہ مثال ہیں۔ دنیا کے سیاسی حلقوں میں ہماری آواز کو کوئی سنتا نہیں ہے، معاشی پالیسیاں بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے، بس ہم ایک تابعدار ماتحت کی طرح ان سارے پالیسیوں کے پابند ہیں جو مغرب اور امریکہ میں تیار ہوکر ہمارے پاس آجاتی ہیں۔
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں
بحیثیت فرد، بحیثیت قوم اور بحیثیت ایک مسلمان وحدت ان ساری پریشانیوں سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم مغرب کی نقالی کو چھوڑ کر اسلام اور قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنائیں، سوشلزم اورکیپیٹلزم کے بناوٹی فلسفوں کو چھوڑ کر محمد عربیۖ کو اپنا راہنما مانیں، مغرب کے دساتیر کی اندھی تقلید کو چھوڑ کر قرآن کو اپنا اساس اور دستور بنائیں، مغرب کے فلاحی ریاستوں کو بطور مثال پیش کرنے کی بجائے ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ یہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد ذریعہ ہے لیکن اگر ہمارے اقدار واطوار یہی رہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان قوموں کی حالت نہیں بدلا کرتا جو خود اپنے حالت کو بدلنے کیلئے اُٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔