فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ٹی وی پر اوپن ہونی چاہیے- وزیراعظم

ویب ڈیسک: تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیرستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر اوپن سماعت ہونی چاہیئے، چیلنج کرتا ہوں سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی ، فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی۔ میں نے شوکت خانم اسپتال کی فنڈنگ سمندر پار پاکستانیوں سے لی۔

اوورسیزپاکستانیوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر سے ملک چلتا ہے۔ ان جماعتوں کو علم ہے اور مجھے بھی پتہ ہے کہ فارن فنڈنگ کونسی ہے۔ اوورسیزپاکستانیوں کی ترسیلات زر فارن فنڈنگ نہیں ہیں۔کئی ملک ان جماعتوں کو پیسے دیتے رہے، ان ممالک سے تعلقات کی وجہ سےمیں بتا نہیں سکتا۔

مولانا فضل الرحمان مدارس کے بچوں کو استعمال کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے آئی؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کےباعث ہم نے خرچے کم کرنے تھے آمدنی بڑھانی تھی، خرچے کم کرنے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے اصلاحات کرنی تھی جس میں دیر ہوئی، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ساتھ ملائے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور پارلیمانی جمہوریت میں بھاری اکثریت کےبغیراصلاحات نہیں ہو سکتیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کورونا کے باوجود ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا، فیصل آباد سیالکوٹ میں ورکرز نہیں مل رہے تاہم معاشی بدحالی ،کورونا کے باوجود معاشی اعشاریے دیگر ممالک سےبہترہیں۔