عمران خان کو درپیش اصل چیلنج

پیپلزڈیموکریٹک موومنٹ سات ماہ کی بہارِجاں فزادکھا کر خزائوں کی نذر ہوگیا ۔پی ڈی ایم کے لرزتے استخوان میں ایک اہم ستون اس وقت گرگیا جب عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ۔اے این پی ان دوجماعتوں میں شامل ہے جنہیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے حوالے سے پی ڈی ایم نے شوکاز نوٹس جاری کئے ہیں اوردونوں جماعتوں نے ان نوٹسز کو ہوا میں اُڑ ادیا ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی نے تو پی ڈی ایم کا بوجھ مزید اُٹھانے سے انکار کرتے ہوئے اعلانیہ طور پر اپنی راہیں جد اکرلیں اور پیپلزپارٹی ابھی تک چار وناچار یہ بوجھ اُٹھائے ہوئے ۔یوں پی ڈی ایم کے اس انجام کا شکار ہونے سے یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت اب مستقبل کے سب سے بڑے چیلنج سے آزاد ہو گئی ؟۔وہیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پی ڈی ایم کا یہ آخری جنم تھا یا اس کے تن مردہ میں دوبارہ جان پیدا ہو سکتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم نامی اتحاد حکومت کے حقیقی اور سنجیدہ چیلنج کے طور پر کبھی سامنے نہیں آسکا ۔پی ڈی ایم کا ایک سخت گیر گروپ آئینہ خانے کا مکین ہو کر رہ گیا تھا ۔ان کا خیال تھا کہ وہ اس جلسے جلوس ،سوشل میڈیا اور پرنٹ والیکٹرونک میڈیا کے ایک حصے کو ملا کر نہ صرف حکومت بلکہ اسٹیبشلمنٹ کا تختہ بھی اُلٹ دے گی ۔یہ سوچ پاکستان کی سیاسی اور اتحادی سیاست کی تاریخ سے لاعلمی کا مظہر تھی ۔پاکستان میں حکومت وقت کے خلاف صرف وہی اتحاد اور مزاحمتی تحریکیں کامیاب ہوتی رہی ہیں جنہیں ملک کی طاقتور ہیئت مقتدر ہ کی خاموش حمایت اور تائید حاصل ہوتی ہے ۔حکمران فوجی ہوں یا سویلین پاکستان کے حالات انہیں ایک حد تک ہی اذنِ پرواز عطا کر تے ہیں ۔سویلین حکمرانوں کی تو بات ہی کیا ان کا اقتدار پہلے ہی شاخ نازک پر آشیانے کی مانند ہوتا ہے بات حد سے باہر نکل جائے تو ایوب خان جیسے مردانِ آہن استعفیٰ دے کر گھر کی راہ لیتے ہیں ،جنرل ضیاء الحق جیسے مردان ِمومن فضائوں سے کسی دوسری دنیا کو سدھار جاتے ہیں اور تاحیات حکمرانی کے خواب دیکھنے والے جنرل مشرف آنسو بہاتے ہوئے ایوانوں سے رخصت ہوتے ہیں۔پی ڈی ایم نے پاکستان کی اس منجمد سیاسی روایت کو بدلنے کا بھاری پتھر اُٹھانے کا فیصلہ کیا ۔وہ نہ صرف سول حکومت بلکہ ملک کی طاقتور ہیئت مقتدرہ سے بھی اُلجھ بیٹھے ۔پی ڈی ایم کے نئے نظریاتی اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ ان کا نعرہ ان کے ناتواں کندھوں پر بھاری ہے ۔وہ عمران خان اورہیئت مقتدرہ کے ایک صفحہ ہونے کا مذاق اُڑاتے رہے ۔پہلے تو وہ پورے صفحے کو ہی پھاڑ ڈالنے کے دعوے کرتے رہے جب بات نہ بنی تو آدھے صفحے تک پہنچ گئے اوروہ ہیئت مقتدرہ کو سول حکومت کی پشت سے ہٹ جانے کا مطالبہ پہلے ملفوف بعدازاں کھلے انداز میں دہرانے لگے ۔یوں ایک گہرا تضاد کھل کر سامنے آیا ۔پی ڈی ایم نے پہلے ہیئت مقتدرہ کے ساتھ ہر ممکن طور پر نباہ کرنے کی کوشش کی اور محمد زبیر کی ملاقات اس کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ ہر جواب نفی میں پا کر پی ڈی ایم کے انقلاب پسندوں نے حکومت اور ہیئت مقتدرہ کے خلاف علم لہرا دیا۔یہ پاکستان کی سیاسی حرکیات اور روایات کو بدلنے کاعزم تھا مگر اس کے لئے فائلوں کے بوجھ سے آزاد ایک نسل اور ہجوم وقیادت درکار ہوتی ہے۔پی ڈی ایم کی قیادت کا دعویٰ ان کے ماضی اور ان کے مقدمات کی فائلوں اور کہانیوں کا ساتھ دیتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔یوں پی ڈی ایم ملک کی ایک سیاسی روایت کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا کہ یہاں وہی تحریک کامیاب ہوتی ہے جسے ہیئت مقتدرہ کی نیک تمنائیں حاصل ہوتی ہیں۔اس حقیقت کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم کے انجام کو قریب لانے میں دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رویوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔پیپلزپارٹی سسٹم کے ساتھ تعاون سے گریز نہیں کرتی۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں کئی پاپڑ والے ،فالودے والے خاموشی سے قومی خزانے میں اربوں کی رقومات واپس کراتے رہے ۔مسلم لیگ ن لکڑ ہضم پتھر ہضم کی پالیسی اپنا کر معاملے میں سخت جان واقع ہوئی ہے ۔ان دو رویوں کے باعث دونوں کے ساتھ سسٹم کا سلوک بھی دومختلف انداز سے جاری رہا ۔یہ دائو پیچ یہاں تک پہنچے کہ پی ڈی ایم کی شکست وریخت کا عمل شروع ہو گیا ۔بظاہر توپی ڈی ایم کا یہ انجام عمران خان کے لئے تمام چیلنجز سے آزاد ہونے کی سند ہے مگر حقیقت میں یہ عمران خان کے لئے نئے اور حقیقی چیلنجز کا آغاز ہے۔پی ڈی ایم نے اپنے وجود اور سکت وصلاحیت سے بھی بڑھ کر جو بھاری پتھر اُٹھانے کی مشق کی تھی اسے چوم کر چھوڑ دینا نوشتۂ دیوار تھا ۔پی ڈی ایم کی دھمکیاں ،تند وتیز جملے ،سوشل میڈیا کی جگتیں اور لطیفے، ٹویٹر کہانیاں، پارسائی اور معصومیت کے دعوے اور عوام دوستی کی یقینی دہانیاں کچھ بھی عمران خان کے لئے کبھی چیلنج رہا ۔نہ اس سے حکومت کی کارکردگی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی ۔عمران خان کے لئے اصل چیلنج اپنے دعوئوں اور وعدوں کی تکمیل تھا جو اب بھی پوری طرح موجود ہے ۔عمران خان کسی سیاسی دائو پیچ کا حصہ بننے نہیں بلکہ ملک کو حقیقی تبدیلی سے آشنا کرنے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں ۔پی ڈی ایم کے وجود سے عدم وجود تک ایک صفحے کی فلاسفی اور حکومت کو یہی حقیقی چیلنج درپیش ہے جو پی ڈی ایم کے عدم وجود تک پہنچنے کی صورت میں کم ہونے کی بجائے زیادہ نمایاں ہو کر رہ گیا ہے۔