موقع سے فائدہ اُٹھائیں

جہاں دنیا بھر میں پھوٹنے والے کرونا وائرس نے سبھی کو کئی قسم کے خطروں سے دوچار کر دیا ہے، وہیں اس صورتحال سے ہم اپنی معیشت کی بہتری کیلئے طرح طرح کے فائدہ بھی اُٹھا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں روزبروز کمی آتی جا رہی ہے اور اس سے ہمارے ہاں عام آدمی کو درپیش بہت سی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔ اس صورتحال میں ہم آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق بھی کافی رعایتیں لے سکیں گے۔ البتہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان نے ان خطرات کو ایک مرتبہ پھر سامنے لاکھڑا کیا ہے جو اس سے پہلے کہیں پیچھے رہ گئے تھے۔
تیل کی کم قیمتیں ہمارے معیشت کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوں گی۔ اس سے ہماری درآمدات کی لاگت تقریباً آدھی رہ جائیگی۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میںکل7.1 ارب ڈالر کا تیل اور گیس درآمد کرایا گیا ہے۔ موجودہ قیمتوں کے حساب سے یہ سال کے آخر تک 9.5 ارب ڈالر کا کل بل بنے گا جو پچھلے سال 14.4ارب ڈالر تھا۔ سو اس طرح ہمیں اس سال پانچ ارب ڈالر کی بچت ہونے کی توقع ہے جس سے نتیجتاً سرمائے اور زرمبادلہ کی ذخائر میں اضافے سے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست صارفین کو ہوگا۔ حکومت کے اس اقدام سے عوام کے معیار زندگی میں بہتری، ان کی آمدنی میں اضافہ اور ان کی خرچ کرنے کے رجحان میں بھی بہتری آئے گی اور یہ سب نتیجتاً اشیاء کی قیمتیں گھٹنے اور مہنگائی میں کمی واقع ہونے کا سبب بنے گا۔
اب ہم ان خطرات کا جائزہ لیتے ہیں جو موجودہ صورتحال کے باعث ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ سب سے پہلا خطرہ تو یہ ہے اس عالمی بحران سے ہماری برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور دوسرا یہ کہ ہمیں برآمد کی جانے والی اشیاء کیلئے درکار خام مال چین سے آتا ہے اور جو خود اس وقت معاشی مشکلات میں ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی ضمانتوں کی مد میں اکھٹا کئے جانے والا بیرونی سرمائے کے بھی اس غیریقینی صورتحال کے باعث ملک سے خارج ہو جانے کا خطرہ موجود ہے۔ چوتھا اور سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومتی ردعمل اور تعلیمی اداروں کی بندش، نقل وحمل اور کاروباری تعطل کے باعث معیشت مزید دباؤ میں آجائے گی اور ایف بی آر کو اپنی کل آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تمام محرکات رواں مالی سال کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے دئیے گئے اقتصادی احداف کو حاصل کرنے میں بھی رخنہ اندازی کریں گے۔
اس تمام صورتحال میں بھی اگر ہم دانشمندی سے ایک بہتر اور مؤثر پالیسی مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس گمبھیرتا میں چھپے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور یہ تمام درپیش خطرات رفع کئے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے چند مشورے پیش خدمت ہیں۔
سب سے پہلے تو حکومت کو قیمتوں میں کمی کا فائدہ جلد ازجلد صارفین کو پہنچانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کیلئے یکم اپریل تک کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ کمی کا اطلاق آنے والے چند دنوں میں کرنے سے عوام میں مزید پیسہ خرچ کرنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس کے علاوہ ان کم قیمتوں کے اطلاق کے بعد حکومت ممکنہ خسارے سے بچنے کیلئے جی ایس ٹی پر نظرثانی کرنے میں بھی حق بجانب ہوگی۔ اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کی جانب سے75پوائنٹس کی کمی کو کاروباری طبقے کی جانب سے خاطرخواہ حوصلہ افزائی نہیں ملی تھی سو اس وقت مانیٹری پالیسی کمیٹی کو ایک مرتبہ پھر اکھٹا ہونا ہوگا اور شرح سود سے متعلق ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جو مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہو۔ پیٹرولیم مصنوعات کیساتھ شرح سود میں کمی بھی ضروری ہے اور اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔
مرکزی بینک کی یہ فکر درست ہے کہ کم شرح سود کے ایکسچینج ریٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر کئی اثرات مرتب ہوں گے البتہ ہماری سمجھ کے مطابق عالمی سطح پر اس بحران کے بعد یہ اقدامات ہماری معیشت پر مثبت اثرات ہی مرتب کریں گے۔ ہمارے مرکزی بینک کو اس حوالے سے بھی فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں آیا ''ہاٹ منی'' یا زرمبادلہ ملکی نظام سے خارج ہو جائے گا۔ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اس مالی سال کے اختتام پر ہماری درآمدات کی لاگت تقریباً آدھی رہ جائے گی اور ملک میں مائع سرمائے کی دستیابی کے سبب اس ہاٹ منی کے چلے جانے سے کوئی خاطرخواہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس کیساتھ جیسے ہی بیرونی سرمائے کی مارکیٹ میں حالات بہتر ہوں، حکومت کو فوری طور پر یوروبانڈ یا صکوک جاری کر دینے چاہئیں جن سے تین سے پانچ ارب ڈالر اکھٹا کیا جا سکتا ہے اور یہ رقم سرمائے کی کمی کے حوالے سے غیریقینی صورتحال ختم کرنے کا ذریعہ بن سکے گی۔ اگرچہ حکومت برآمدات کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے البتہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش بھی باقی ہے۔ مزید برآں اگر ہم اپنی معاشی سرگرمیوں میں جاری سست روی کو دور کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے نئی سہولیات اور پیشکشیں سودمند ثابت ہو سکتی ہیں جن کے مطابق اقتصادی احداف اور کرونا پر خرچ ہونے والی رقم کو اخراجات میں نہ گننے کی یقین دہانے کرائی گئی ہے۔ حکومت احساس پروگرام کے ذریعے غربا اور ضرورت مندوں کی دادرسی کرنے کو پہنچ سکتی ہے تا کہ وہ اس اُفتاد سے لڑنے کے قابل ہو سکیں۔ وزیراعظم کی کرونا سے متعلق تقریر ان معاشی پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتی جنہیں باقی حکومتوں نے ترجیح پر رکھا۔ انہیں اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سب سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںکم کرنا ہوں گی کہ ان کا یہ اقدام سست روی کی شکار معیشت میں ایک نئی روح پھونک سکتا ہے۔ اگر ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو سٹاک مارکیٹ کی ابتری ملکی معیشت کے دیگر پہلوؤں کو پر بھی منفی اثرات مرتب کرنے لگے گی۔ ہمارے ہاتھ میں ایک موقع ہے اور اس سے پھرپور فائدہ اُٹھانے کا یہی بہترین وقت ہے۔
(بشکریہ دی نیوز۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)