ایران کے انقلابی گارڈز

سعودی اتحاد کا یمن میں ایران کے انقلابی گارڈز پر حملہ

ویب ڈیسک :یمن میںعرب اتحاد نے فضائی حملوں میں ایران کے پاسداران انقلاب اور حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ایک خفیہ ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو کمزور کرنے کے لیے اتحادی افواج کے وسیع پیمانے پر کیے گئے آپریشن میں دارالحکومت صنعا کے ساتھ ساتھ دمار، صعدہ اور الجوف گورنریٹس کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ العربیہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صنعا میں الدلیمی ایئربیس اور گوداموں کو اتحادی افواج نے نشانہ بنایا۔ اس سے چند گھنٹے قبل، اتحاد نے سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایک دھماکہ خیز ڈرون کو تباہ کر دیا۔ عرب اتحاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے. جو سنہ 2014 میں حوثی باغیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد ملک کا مکمل کنٹرول کھو بیٹھی تھی۔

وسائل سے مالا مال مارب گورنری میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان شدید لڑائی دیکھنے میں آئی ہے۔ بدھ کے روز، سینکڑوں یمنی حکومتی فوجیوں کو وسطی شہر مارب میں تعینات کیا گیا تھا. تاکہ وہ فوجیوں اور اتحادی قبائل کو مزید تقویت دے سکیں جو شہر سے باہر سٹریٹجک مقام پر قبضہ کرنے والے حوثی باغیوں کے خونریز حملے سے لڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو فوٹیج میں پک اپ، بسوں اور فوجی گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ دکھایا گیا. جس میں سینکڑوں فوجی سوار تھے. جو ماریب کی طرف جاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے. "ہم اپنی جانوں اور خون سے تمہیں چھڑائیں گے، یمن”۔جنگ، جو اب سات .سال سے جاری ہے. میں ہزاروں یمنی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں