کورونا، آب زم زم اور سفید پوش ضرورت مند

تری آواز مکے اور مدینے، کورونا کے دنیا پر حملہ کرنے کے بعد جس طرح دنیا کے بعض حصوں سے غیرمسلموں کی جانب سے مسلمانوں کی تقلید کرتے نمازادا کرنے کی تصویریں اور ویڈیو وائرل ہوئی ہیں، سپین کی ایک مسجد میں صدیوں بعد اذان کی آواز گونجی ہے، یہاں تک کہ بی بی سی نے بھی گزشتہ جمعہ کو اپنی نشریات میں اذان شامل کر کے اسلام کی حقانیت کو تسلیم کیا ہے اور ایسی پوسٹیں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جن میں قرآن کریم کی اہمیت کا اظہار کیا جارہا ہے حالانکہ یہ ویڈیوز بھی غیرمسلموں نے پھیلائی ہیں۔ اس کے بعد اگر امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے کورونا کے مریضوں کو آب زم زم پلا کر ان کے نفسیاتی اور جذباتی علاج کی تجویز دی ہے تو کم ازکم مسلمانوں کو اس تجویز پر ضرورعمل کرنا چاہئے، اسلئے کہ آب زم زم کومسلمان جو اہمیت دیتے ہیں اور اسے آب شفاء قرار دیتے ہیں اس کے بعد شیخ عبدالرحمن السدیس کی اس تجویز کی افادیت سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے کہ بقول منیر نیازی
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسم محمدۖشاد رکھتا ہے مجھے
اور مولانا محمد علی جوہر نے بھی تو کہا تھا نا کہ
ہر ابتدا سے پہلے، ہر انتہا کے بعد
ذات نبیۖبلند ہے ، ذات خدا کے بعد
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیۖکے بعد
یعنی جس نبی مکرمۖنے ہمیں اپنی اُمت میں شامل کر کے دوسری اُمتوں میںممتاز بنایا ان کے جدامجد حضرت اسماعیل کی ایڑیاں رگڑنے کے نتیجے میں پھوٹنے والے پانی کے چشمے کی اہمیت ہزاروں سال سے تسلیم شدہ ہے اور مسلمان تو یہ پانی جس نیت کیساتھ پیتے ہیں یہ ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ ان کی سوچ درست ہے اس لئے اگر آب زم زم کورونا کے علاج کیلئے استعمال کیا جائے تو بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہونا چاہئے کہ اس سے مریضوں کو شفاء کامل نصیب ہوگی ان شاء اللہ۔
اصل موضوع تو کچھ اور تھا مگر جب شیخ عبدالرحمن السدیس کی تجویز آج کے اخبارات میں دیکھی تو رہا نہ گیااور اس تجویز کو اپنے قارئین تک پہنچانے پر مجبور ہوگیا بلکہ انہوں نے صرف کورونا کے مریضوں کی نفسیاتی اور جذباتی علاج کیلئے استعمال کرنے کی بات کی ہے جبکہ میری تو یہ ناقص رائے بھی ہے کہ ان دنوں چونکہ اس وباء نے عام لوگوں کو بھی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کر دیا ہے اس لئے جن کو بھی موقع ملے ان کو اسی نیت کیساتھ آب زم زم پینا چاہئے کہ اس سے ان کے اندر جو خوف ہے اس کا خاتمہ ہو جائے۔ کورونا کے حوالے سے ان دنوں وفاقی اور صوبہ سندھ کی حکومتوں کے درمیان جو تھوڑی بہت تو تو میں میں چل رہی ہے اس حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے اس تازہ بیان سے اتفاق کرنا چاہئے کہ ''سیاست فریج میں رکھ دی ہے،سب کو مل کر کرونا کیخلاف لڑنا ہوگا'' موجودہ حالات اس بات کی متقاضی ہیں کہ سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور نہ صرف اس وباء سے نجات حاصل کی جائے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی طور پر جن چیلنجز کا ہمیں من حیث القوم سامنا ہے ان سے عہدہ بر آ ہونے کی مؤثر تدابیر اختیار کی جائیں۔ حکومت نے اگرچہ دیہاڑی دار اور دیگر مظلوم لوگوں کی دادرسی کیلئے مالی امداد شروع کر دی ہے اور اب تک ملک بھر میں یہ رقوم فراہم بھی کی جا چکی ہیں جبکہ جو لوگ رہ گئے ہیں ان کو بھی آئندہ چند روز تک رسائی حاصل کرکے ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی کوششیں کی جائیں گی جبکہ بعض ظالم غریبوں کو اس معاملے میں بھی لوٹنے سے باز نہیں آئے اور کمیشن خوری کی خبریں سامنے آنے کے بعد حکومتی ادارے فعال ہو چکے ہیں اور گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں تاہم جس طرح وزیراعظم نے کہا ہے کہ پہلی ترجیح دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کو ریلیف دینا ہے تو ذرا ان لوگوں کی جانب بھی توجہ دی جائے جو کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلاسکتے، اس سلسلے میں اخبار فروش برادری نے گزشتہ روز ایک بار پھر روزنامہ مشرق کیساتھ ایک فورم میں ہاکروں کو ریلیف پیکج کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے، ان کی مجبوری کو مرحوم سجاد بابر نے کیا خوب زبان دی ہے کہ
ایک ہاکر آنسوئوں کی دھند میں یہ کہہ گیا
پھول بھی بیچاکرونگا کل سے اخباروں کیساتھ
اسی طرح پریس اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ظفر خٹک نے بھی پرنٹنگ انڈسٹری سے وابستہ ان ہزاروں افراد کو بھی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے جو لاک ڈائون کے نتیجے میں بیروزگار ہو چکے ہیں۔ بظاہر تو یہ لوگ متعلقہ اداروں کی توجہ اب تک حاصل نہیں کر سکے تاہم یہ ایک ایسا سفید پوش طبقہ ہے جو اپنی مجبوری کسی پر ظاہر بھی نہیں کر سکتا،اس لئے حکومت کے ذمہ دار حلقوں کو ان کی دادرسی کیلئے بھی مناسب اقدام اُٹھانا چاہئے، اس سلسلے میں ایسوسی ایشن سے ضرورتمندوں کی فہرستیں طلب کی جا سکتی ہیں، ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ روز شہر میں بعض کلینکس کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے جبکہ ہسپتالوں میںاوپی ڈیز بند ہونے کی وجہ سے عام مریض کہاں جائیں؟ اس سوال کا جواب اگر عوام کو مل جائے تو شاید کوئی مسئلہ نہ رہے، بقول سعود عثمانی
مرے سکوت کو تائید مت سمجھ اپنی
یہ اختلاف ہے اور خامشی سے ہوتا ہے