وزیراعظم کا بروقت نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر عدلیہ کیخلاف پروپیگنڈہ مہم کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو اس کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا جو حکم دیا ہے وہ اپنی جگہ بجا طور پر درست ہے لیکن اس خدشے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرے بعض اداروں کی طرح اس مرحلہ پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ ہو جائے۔ عدلیہ کے احترام پر دو آراء نہیں قانون اور عدلیہ کے احترام کے بغیر سماجی ارتقا کا تصور ہی ممکن نہیں، البتہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو دوباتوں کا خیال رکھنا ہوگا، اولاً یہ کہ قابل احترام عدلیہ اور جج صاحبان پر حرف زنی اور ثانیاً کسی فیصلے پر سنجیدہ آرائ۔ بنیادی طور پر یہ دونوں یکسر الگ الگ باتیں ہیں، عدالتوں کے فیصلوں پر سنجیدہ آراء دنیا بھر میں معمول ہیں البتہ عدلیہ کیخلاف منفی پروپیگنڈے یا معزز جج صاحبان کی شخصیات پر رکیک حملے قطعی طور پر نادرست بلکہ قابل سرزنش ہیں۔ ہماری رائے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو وزیراعظم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے فیصلوں پر سنجیدہ آراء اور پھکڑپن میں موجود فرق کو بہرصورت مدنظر رکھتا ہوگا۔ یہاں سوشل میڈیا صارفین سے بھی یہ عرض کریں گے کہ دنیا بھر میں عمومی طور پر ان سائٹس سے علم وآگہی میں اضافے کا کام لیا جاتا ہے، منفی استعمال کو کہیں بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا سائٹس سے علم وآگہی اور مکالمے کو فروغ دیا جائے اور منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
جزوی لاک ڈائون، پنجاب کا مختلف فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے جزوی لاک ڈائون میں دو ہفتوں کی توسیع کے اعلان کے24گھنٹے بعد پنجاب کی حکومت نے لاک ڈائون میں25اپریل تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ گواٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے چند وفاقی امور کے علاوہ اپنے فیصلوں میں کاملاً آزاد ہیں لیکن موجودہ حالات میں پنجاب کو باقی ماندہ تین صوبوں کی مشاورت کیساتھ ہی فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔ پنجاب کے اس فیصلے سے غیرسنجیدگی کا تاثر پیدا ہوا ہے کہ اس پر نہ صرف نظرثانی کی ضرورت ہے بلکہ اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ فی الوقت کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد کے50فیصد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔ ٹھوس اقدامات کی ضرورت اور دیگر وجوہات سے آنکھیں بندکرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہوگا۔
افغان امن معاہدہ کے فریقوںسے اپیل
افغان امن معاہدے کی فریقین کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کیلئے تشویش کا باعث بن رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ طرفین نہ صرف معاہدے کی پاسداری کوہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں بلکہ اس امر کا بھی بطور خاص خیال رکھیں کہ جنگوں اور خانہ جنگیوں سے تباہ حال افغانستان میں نیا بحران پیدا ہونا ہی کسی نئے تصادم کا دروازہ کھلے۔ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ہی استحکام اور تعمیر وترقی کا ضامن ہے، اسے نظر انداز کرنا کسی بھی طور درست نہیں ہوگا۔ طالبان امریکہ معاہدہ کے بعد اب تک دونوں طرف سے طے شدہ امور کی خلاف ورزی ہوئی، ہر دو فریق یہ سمجھنے کی کوشش کریں اگر معاہدہ ناکام ہوا تو نئی خانہ جنگی کا دروازہ کھلے گا جس کا افغانستان متحمل نہیں ہو سکتا ہے نا پڑوس ممالک اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے۔
وزیراعلیٰ کی توجہ کا طالب معاملہ
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور دریائے پنجگوڑہ میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث ہونے والے جانی ومالی نقصانات کی اطلاعات تشویشناک ہیں، صوبائی حکومت کسی تاخیر کے بغیر متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی کی بحالی اور متاثرین کی مدد کیلئے اقدامات کرے۔ بارشوں اور دریائے پنجگوڑہ میں سیلاب کے متاثرین کی نہ صرف مالی امداد کی جائے بلکہ مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں اور دیوار گرنے سے جاں بحق ہونے والے 8افراد کے خاندانوں کی بھی بھرپور مدد کی جائے، اُمید واثق ہے کہ وزیراعلیٰ اس اہم مسئلہ پر ذاتی توجہ دیتے ہوئے امدادی کاموں کی نگرانی کریں گے تاکہ متاثرہ علاقوں کے شہریوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہونے پائے۔