قومی کرکٹ ٹیم میں تسلسل نام کی کوئی چیز نہیں

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا آج آخری ٹاکرا ہوگا، دونوں ٹیموں نے سیریز میں تین تین میچ جیت رکھے ہیں اور آج میدان مارنے والی ٹیم سیریز کی فاتح کے طور پر سامنے آئے گی، پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اب تک کھیلے گئے سات ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی کارکردگی کا نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح طور پر نظر آئے گی کہ قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہیں آیا، یہ کبھی ایسی کارکردگی دکھاتی دیتی ہے کہ آسمان کو چھونے لگتے ہیں اور کبھی اس قدر بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ زمین بوس نظر آتے ہیں

بیٹنگ لائن ہدف کا تعاقب کرنے پر آئے تو بابر اور رضوان ہی دو سو رنز مکمل کرکے میدان سے باہر آجاتے ہیں اور بیٹنگ لائن ناکام ہونے پر آئے تو بابر اور رضوان کے رخصت ہوتے ہیں مڈل آرڈر خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ جاتا ہے، بائولرز کبھی پانچ رنز کا دفاع کرلیتے ہیں اور کبھی ایک اوور میں بائیس بائیس رنز کھا لیتے ہیں، فیلڈرز کبھی مشکل سے مشکل کیچ تھام کر داد وصول کرتے ہیں اور کبھی ہاتھوں میں آیا آسان کیچ چھوڑ کر خود کو مشکوک کرلیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کارکردگی کے ساتھ ہم رواں ماں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جس میں ہم نے گزشتہ سال سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھا سکیں گے، اب تک پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کے ذہن میں اس حوالے سے کیا پلان ہے وہ سمجھ نہیں آرہا ہے

مزید دیکھیں :   فیفا ورلڈ کپ، کروشیا برازیل کو پینلٹی شوٹ آئوٹ پر شکست دیکر سیمی فائنل میں داخل

یہ تو سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز تھی جس میں ہار جیت کے ساتھ ساتھ ٹیم کو کم بیک کرنے کا موقع ملتا رہا لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں کسی بھی ٹیم کے پاس کم بیک کرنے کا موقع نہیں ہوتا ایک یا دو میچ ہارنے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کیلئے فائنل تک رسائی کا راستہ مزید مشکل ہو گیا ہے، ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ پریشان کن بات یہ ہے کہ ٹیم کا ہر دوسرا کھلاڑی فٹنس مسائل کا شکار ہے، ایسی ٹیم کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ جیسے میگا ایونٹ میں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانا مشکل ہو جائے گا، پاکستان اور آسڑیلیاکی وکٹوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اگر یہ سوچا جا رہا ہے کہ وہاں شاہین شاہ آفریدی، حارث رئوف اور نسیم شاہ جیسے تیز رفتار بائولرز مخالف بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دینگے تو یہ غلط سوچ ہے، اگر ہمارے بائولرز یہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو مخالف ٹیموں کے پاس بھی فاسٹ بائولرز ہیں اور ہمیں بھی اپنی بیٹنگ لائن انگلینڈ کیخلاف سیریز کے چھ میچوں کے دوران ہو چکا ہے، بابر اور رضوان کے بعد ہماری امیدوں کا محور کبھی آصف علی، کبھی خوشدل شاہ اور کبھی حیدر علی ہوتا ہے لیکن ان تینوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کبھی گیند بیٹ پر آگئی تو چھکا نہ آئی تو پویلین واپس

مزید دیکھیں :   قومی ویمن ٹی ٹوئنٹی کپ کا فائنل بلاسٹرز نے جیت لیا

مڈل آرڈر میں جب تک مستند بیٹر نہیں آئے گی اس وقت تک پاکستان کی بیٹنگ کے مسائل حل نہیں ہونگے، چھٹے میچ کی مثال لے لیں محمد رضوان کے نہ ہونے سے بابر اعظم کو آخر تک اننگز کو لیکر چلنا پڑا ایک جانب ان پر رنز بنانے کا دبائو دوسری جانب یہ خوف کے تیزی کھیلنے کی وجہ سے آئوٹ ہو گیا تو بقیہ ٹیم تو سو بھی نہیں کریگی اور اسی خوف نے انگلینڈ کیخلاف شکست کی بنیاد رکھ دی تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہونے والے ساتویں اور آخری میچ کیلئے محمد رضوان، حارث رئوف کی واپسی ہو جائے گی مگر کیا ٹیم چھٹے میچ میں جس طرح ہاری ہے اس کے دبائو سے باہر آسکے گی، قومی کرکٹ ٹیم کے مسائل بہت زیادہ اور اس کے پاس وقت بھی کم ہے، ٹیم کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ میں ہونے والی سہ فریقی چیمپئن شپ حتمی تیاریوں کیلئے آخری موقع ہو گی نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر سب کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری ٹیم میگا ایونٹ میں کہاں کھڑی ہے اور ہم آسڑیلیا میں کیا نتائج دے سکتے ہیں، سہ فریقی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کیخلاف بنگلہ دیش کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے میچ ہونگے اور ان وکٹوں پر یہ دونوںہی حریف کسی طور پر بھی پاکستان کیلئے تر نوالہ نہیں ہونگے، پاکستان کے پاس بہترین موقع تھا کہ ایک بہترین ٹیم کا انتخاب کرکے انگلینڈ کیخلاف سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی جاتی جس سے ٹیم کا اعتماد بھی بڑھتا ہو اور ہم اس وقت بہتر ٹیم کے طور پر سامنے آتے اب آج سات ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل کر بھی کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ ہماری ٹیم عالمی کپ میں کیا گل کھلائے گی۔

مزید دیکھیں :   ملتان ٹیسٹ، انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 281 پر آئوٹ، ابرار کی 7 وکٹیں