1 117

حکومت بیک وقت کورونا وباء اور بھوک و افلاس سے بچا نے کے لئے لڑرہی ہے،وزیراعلٰی

پشاور(مشرق نیوز)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے منتخب عوامی نمائندوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں سماجی فاصلوں اور دیگر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے عوام کو زیاد ہ سے زیادہ آگہی دینے اور ان پر عملدرآمد کیلئے لوگوں کو قائل کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کریں ۔ منتخب عوامی نمائندے اپنے اپنے حلقہ ہائے نیابت میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ روابط رکھیں اور عوام کو کورونا سے محفوظ بنانے کیلئے سلسلے میں جزوی لاک ڈائون اور سماجی فاصلوں کے حوالے سے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ کے ساتھ روزانہ کی بنیادوں پر رابطے رکھیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ موجودہ مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ منتخب عوامی نمائندوں اور معاشرے کے ہر طبقے کو اپنے اپنے حصے کا کردارادا کرنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کے روز ضلع مردان سے منتخب ممبران صوبائی اسمبلی کے ایک وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کیا جنہوںنے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں اُن سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں افتخار مشوانی، عبد السلام آفریدی، ملک شوکت اورامیر فرزندشامل تھے۔وفد نے وزیراعلیٰ کو ضلع مردان میں لاک ڈائون کی صورتحال، سماجی فاصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال، موجودہ صورتحال میں لوگوں کو درپیش مسائل اور دیگر متعلقہ معاملات سے آگاہ کیا۔ وفد سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت وزیرا عظم عمران خان کے وژن کے مطابق بیک وقت دو محاذوں پر لڑرہی ہے ایک طرف لوگوں کو کورونا کی وباء سے بچانا ہے تو دوسری طرف اُنہیں بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے ۔ اسلئے جزوی لاک ڈائون کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ لاک ڈائون کی وجہ سے لوگوں اور خصوصاً یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے طبقے کو درپیش مشکلات کا بھر پور احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تعمیرات کی صنعت کو مشروط طور پر کھولنے کی اجازت دی ہے تاکہ دیہاڑی دار طبقہ اپنے لئے روزی روٹی کما سکے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس مشکل وقت میں معاشرے کے کمزور طبقوں کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر وسائل استعمال میں لارہی ہے ۔اُنہوںنے منتخب عوامی نمائندوں اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے اردگرد نادار اور کمزور لوگوں کا بھر پور خیال رکھیں۔

مزید پڑھیں:  پشاور، بے روزگاری و مہنگائی کیخلاف نوجوانوں اور رکشہ یونین کا احتجاج