بے ادب لوگوں کی تادیب

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ حکایت میں نے ابوالوفاء بن عقیل کی تحریر سے نقل کی ہے کہ ایک ہاشمی منصور کی خدمت میں آیا۔ منصور نے اس کو اپنے قریب لانا چاہا اور اس کو خاصہ شاہی میں شریک کرنا چاہا اور فرمایا کہ قریب آ جائو۔ اس نے کہا میں کھا چکا ہوں۔ اس پر منصور نے اس سے اعراض کر لیا۔
جب وہ شخص باہر نکلا تو ربیع نے اس کو گدی سے دھکا دیا تو دوسرے حاجبوں نے بھی ربیع کو دیکھ کر اس کو دھکے دیئے۔ اس وقعہ کی شکایت لے کر اس کے رشتے دار منصور کے پاس آئے۔ ربیع نے کہا کہ یہ جوان دور سے سلام کر کے واپس ہو جاتا تھا۔
اب امیر المومنین نے اس کو قریب بلایا اور بٹھانا چاہا پھر ارشاد فرمایا کہ کھانے میں شرکت کرے تو یہ اکرام کا جواب یہ دیتا ہے کہ میں کھانا کھا چکا،گویا امیر المومنین کے ساتھ تناول صرف پیٹ بھرنے کے لئے ہے اور ایسے لوگوں کی تادیب بجائے قول کے فعل سے ہی ہو سکتی ہے۔ (لطائف علمیہ)

مزید دیکھیں :   تباہ کن زلزلہ، ترکیہ اور شام میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد 12 ہزار کے قریب ہوگئی