سی این جی بندش

سی این جی بندش، پیٹرول نایاب، کرایوں میں من مانا اضافہ

ویب ڈیسک : سی این جی بندش اور پیٹرولیم مصنوعات کے حصول میں مشکلات نے شہریوں کیلئے مسائل کھڑے کر دیئے ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرائے وصول کرنا شروع کر دیئے جبکہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ میں شدید رش اور کم بسوں کے باعث تمام شہریوں کیلئے سفر کرنا محال ہوگیا خیبر پختونخوا حکومت نے یکم جنوری سے صوبہ بھر میں سی این جی کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے باعث صوبے میں پیٹرول کی مانگ بڑھ گئی اور صوبے میں مطلوبہ مقدار میں پیٹرول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے
ٹیکسی اور گاڑیوں کے ڈرائیورز کئی کئی گھنٹے تک قطاروں میں لگ کر پیٹرول حاصل کرتے ہیں جس کے بعد وہ شہریوں سے منہ مانگے دام بھی وصول کر رہے ہیں ۔ اندرون شہر ٹرانسپورٹ کے کرایہ میں من مانے اضافہ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی جبکہ طلبہ کو آمد و رفت میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے تاہم متعلقہ انتظامیہ کرایوں میں من مانے اضافہ پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہے شہر میں چلنے والے مسافر ویگن شہریوں سے ہر سٹاپ 30سے چالیس اور پچاس تک روپے وصول کرنے لگے
جس پر اکثر عوام اور ڈرائیورز کے درمیان زبانی تکرار کے واقعات بھی معمول بن چکے ہیں اسی طرح نواحی علاقوں میں چلنے والے مختلف ٹرانسپورٹ بھی من مانی کرایہ اصول کرنے لگی- تاہم متعلقہ حکام اس سلسلے میں چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہے جسکی وجہ سے شہریوں میں تشویش پائی جانے لگی پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ میں بسوں کی تعداد بڑھا دی گئی تاہم پشاور کی آبادی کیلئے تاحال یہ بسیں کم ہیں جس کی وجہ سے بی آر ٹی میں مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے اور ان کیلئے بھی بس میں جگہ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔

مزید دیکھیں :   پی ٹی آئی کے 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل