آہ! چیف جسٹس وقار سیٹھ

اہم مقدمات میں جرأتمندانہ فیصلے کرنے اور قانونی معاملات میں کسی دبائو کو خاطر میں نہ لانے کیلئے شہرت رکھنے والے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی کورونا سے لڑتے لڑتے جان آفریں کے سپرد کر کے ملک میں قانون کی حکمرانی کے خواہشمندوں کو جس طرح سوگوار کر گئے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔جسٹس وقارسیٹھ اپنے فیصلوں کے باعث عدلیہ کا ایک ایسا روشن چہرہ بن گئے تھے جن کے فیصلے بولتے تھے اور انصاف کے متلاشی لوگ ان کی ذات پر اعتماد کرتے تھے۔ قانون کے مطابق ہی ہر منصف فیصلہ دیتا ہے اور اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون وشواہد کو مد نظر رکھے مگر کچھ جج اپنے ریمارکس اور اندازواطوار کے باعث عوام کیلئے ایک اُمید اور شہرت کے حامل کردار بن جاتے ہیں، جسٹس وقار سیٹھ ایسے ہی ایک جج تھے ۔آپ کے اہم ترین فیصلوں میں پرویز مشرف کو پھانسی کی سزادینے کا فیصلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔جسٹس وقار سیٹھ کے اہم ترین فیصلوں میں نمایاں فیصلہ 2018ء کا فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے74مبینہ دہشت گردوں کی سزائیں معطل کرنے کا فیصلہ ہے۔ یہ کیس اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ایک اور مقدمے میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں فوج کو زیادہ اختیارات دینے کیخلاف بھی فیصلہ دیا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے پشاور میں بننے والی بی آر ٹی کیخلاف ایک پٹیشن میں فیصلہ دیا تھا کہ اس منصوبے کی قومی احتساب بیورو سے تحقیقات کرائی جائیں۔ ملک میں قانون کی بالادستی اور جرأتمندانہ فیصلوں کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی جسٹس وقار سیٹھ کا نام سرفہرست ہے گا، اجل نے مہلت دی ہوتی تو مزید کتنے فیصلے قابل ذکر ہوتے ۔آپ کی وفات اپنے خاندان کیساتھ ساتھ صوبے کے عوام اور قانون وانصاف کے نظام سے وابستہ پوری برادری کیلئے یکساں سوگواریت اور نقصان کا باعث ہے۔ مالک حقیقی سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی بشری غلطیوں سے درگزر کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین۔
ہراسانی کے حامل امور کا مکمل تدارک کرنے کی ضرورت
گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات کی جانب سے ادارے میں ہراسمنٹ واقعات کیخلاف احتجاج کا نوٹس اور گورنر انسپکشن ٹیم کی دو روز کے اندرشفاف انکوائری سے توقع ہے کہ ہراسانی کے واقعے کے ذمہ دار عناصر کی درست نشاندہی ہوگی اور قانون کے تقاضے پورے کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ہم سمجھتے ہیںکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات نے مظاہرہ کر کے بڑا جرأتمندانہ قدم اُٹھا یا ہے لیکن ابھی تک کسی جانب سے کوئی ایسا ٹھوس ثبوت اور کسی شخص کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے شکایت تو گمنام نہیں ہوسکتی جن طالبات نے اتنا بڑا اقدام اُٹھا یا ہے ان کی جرأت اپنی جگہ لیکن اس قدم کے اُٹھانے سے قبل وہ یونیورسٹی کے کن ذمہ دار شخصیات کے نوٹس میں یہ بات لائی ہے، کتنی طالبات کو شکایت ہے اور ان کی نوعیت کسی قدر سنگین اور اہم ہے، حقائق کو مکمل طور پر طشت ازبام کرنے کیلئے بہت سی تفصیلات کو سامنے لانا ہوگا اوران عناصر کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ اس طرح کے واقعات میں ثبوت پیش کرنا اور الزام کو درست ثابت کرنا خاص طور پر مشکل کام ہے، ساتھ ہی رازداری کی ضرورت کا بھی خیال رکھنا طالبات کا مفاد ہے۔ اس واقعے کا سب سے نازک پہلو یہ ہے کہ یہاں پر سینکڑوں طالبات زیرتعلیم ہیں اوران کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے، والدین اب اپنی بچیوں کو نہ صرف اس تعلیمی ادارے بلکہ دیگر سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی بھیجتے وقت لاکھ بار غور کریں گے۔ واقعے میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کر کے قرارواقعی سزا دے کر ہی انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ یہ واقعہ آخری واقعہ ہوگا جس کی تحقیقات کے بعد ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں گے کہ آئندہ اس طرح کے کسی واقعے کی نوبت نہ آئے۔ امتحانی نظام اور وہ تمام امور جو طالبات کو ہراسان کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں ان سب کا جائزہ لیا جائے اور آئندہ کیلئے کوئی ایسا راستہ کھلا نہ چھوڑا جائے جو اساتذہ کے بھیس میں بھیڑیوں کیلئے کھلا رہے اور طالبات کو ہراساں کیا جاسکے۔