کراچی،لاہوراور پشاورمیں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ،ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک(اسلام آباد): ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر می میجر جنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کوتربیت اوراسلحہ فراہم کررہا ہے اور کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنارہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق را کی طرف سے ٹی ٹی پی کی معاونت کے ثبوت بھی موجود ہیں ،جس نے قبائلی علاقوں میں بدامنی کیلئے آئی ای ڈیز اور اسلحہ تقسیم کیا، دہشت گردوں کی تربیت کیلئے افغانستان میں 66 اور بھارت میں ایک کیمپ قائم ہے، بھارت نے قندھار میں دہشت گردوں کے کیمپ کیلئے30ملین ڈالرز لگائے، پی سی گوادر پر حملے کیلئے بھارت نے 0.5 ملین ڈالر فنڈنگ کی، دہشت گرد اسلم اچھو بھارتی اسپتال میں زیرعلاج رہا، بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مین کودیگرممالک میں فنڈنگ کررہی ہے۔
بلوچستان میں سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلیے بھارت نے خصوصی ملیشیابنائی ہے، بلوچ علیحدگی پسند ڈاکٹر اللہ نذر کے را کے ساتھ رابطوں کی آڈیو موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر ڈاکٹر اللہ نذر کی آڈیو ٹیپ بھی سنائی۔
پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے، افغانستان میں بھارتی سفارتخانے اور قونصل خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بن چکے ہیں، بھارتی سفارتخانے میں تعینات بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور 4 بار دہشت گردوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔
میجر جنرل بابر افتخار نے مزیدکہا کہ نومبر دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی داعش پاکستان بنانے کی سازش کررہی ہے، اس نے حال ہی میں 30داعش دہشتگردوں کو پاکستان اورارد گرد منتقل کیا ہے اور کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کیے جارہے ہیں، الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسیرانے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی اور اجمل پہاڑی نے بھارت میں ٹریننگ لینے کا اعتراف کیا تھا۔