پی ایچ ڈی ڈاکٹر واپس کیوں آئیں

گزشتہ ہفتے اخبار میں خبر پڑھی کہ خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری خرچ اور وظیفہ پر بیرون ملک پی ایچ ڈی کیلئے جانے والے68 لیکچرارز دیگر ممالک میں ہی غائب ہوگئے ہیں۔ جس میں صوبہ بھر کے بہترین یونیور سٹیوں کے طالب علم شامل ہیں ۔ جن کا ڈیٹا ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا ہے کہ ان طلبہ سے ریکوری کی جائے ۔ رپورٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے صوبے کی جامعات سے734اساتذہ کو پی ایچ ڈی کیلئے مختلف ممالک میں بھیجا ۔ ان میں سے ڈگری حاصل کرکے واپس آنے والوں کی تعداد 550ہے جبکہ42اساتذہ یہ ڈگری حاصل نہ کرسکے اور فیل ہوکر واپس آئے۔ اسی طرح68اساتذہ ایسے ہیں جو ڈگری مکمل کرکے وطن واپس ہی نہیں آئے۔ ایک پی ایچ ڈی پر وظیفہ اور سرکاری اخراجات کا تخمینہ تقریبا ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپیہ ہوتا ہے۔ بیرون ملک روپوش ہونے والے ایسے اساتذہ کیخلاف قانونی کارروائی کیلئے پولیس ، ایف آئی اے اور نادرا کو متحرک کردیا گیا ہے۔ گزشتہ سال وفاقی وزارت تعلیم اور فنی تربیت کی طرف سے سینیٹ میں جمع کئی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا نے گزشتہ دس سالوں میں مختلف شعبوں تقریبادو ہزار پی ایچ ڈی اسکالر پیدا کئے ہیں۔ اورغیر ملکی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے والو ں میں خیبر پختونخوا کا نمبر دوسرا ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے جن طلبا نے غیر ملکی جامعات سے تعلیم حاصل کی ہے کی تعداد 1019ہے جبکہ سند ھ کا 494پی ایچ ڈی کے ساتھ تیسرا نمبر ہے۔ایوان بالا میں جمع کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران مجموعی طور پر 2ہزار160طلبہ نے اپنی ڈاکٹریٹ(پی ایچ ڈی)کی تعلیم مکمل کی۔جس میں انجینئرنگ ،ٹیکنالوجیز اور فزکس سائنسز میں ڈاکٹریٹ(پی ایچ ڈی)کا رجہان بڑھ رہاہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ باہر کے ملکوں سے گزشتہ10سال میں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں882 پاکستانی طلبہ نے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔جبکہ آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز اور بزنس ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کا رجحان کم ہوا ہے اور گزشتہ دس سال میں آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز میں صرف59طلبا جبکہ بزنس ایجوکیشن میں91طلبہ نے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔اگر ریکارڈ دیکھا جائے تو دس سال میں مقامی جامعات میں پی ایچ ڈیز مکمل کرنے والوں کی تعدادکو دیکھا جائے تو یہاں کل11ہزار991طلبہ نے پی ایچ ڈیز مکمل کی ہیں۔ مقامی جامعات میں7997طلبااور 3994طالبات نے اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔جو کہ ایک بڑی تعداد ہے مگر اس کے برعکس پی ایچ ڈی حاصل کرنے والے طلبہ ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہیں انہیں سرکاری یونیورسٹیوں میں ایک سال کی تقرری کے لئے بھی اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں جتنا ایک ان پڑھ ملازمت کے لئے دھکے کھاتا ہے ۔ یہ پی ایچ ڈاکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے پاس اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے جاتے ہیں تو انہیںنجانے کس قدر مشکلات سے دو چار ہوناپڑتا ہے ۔حتی کہ بعض یونیورسٹیوں میں ان کو وائس چانسلر سے ملنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا ۔ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر عطاالرحمن نے ایک دن کہا تھا کہ ملک میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ز کی کمی ہے اور ملک کو85000ڈاکٹر ز چاہییئں۔ جس کے خلاف کچھ لوگ میدان میں آئے کہ پاکستان جیسے ملک میں اتنے زیادہ پی ایچ ڈی کو نہیں کھپا یا جاسکتااور وہ کچھ حد تک ٹھیک بھی تھے کیونکہ موجودہ دور میں جب پی ایچ ڈی ڈاکٹر ز کی تعدا د زیادہ ہوگئی ہے اور ان میں تین سے پانچ ہزار بے روزگار ہیں تو ڈاکٹر عطاالرحمن کی بات غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ کیونکہ جو ہائیر ایجوکیشن کی پالیسیاں ہیں وہ یہ بتاتی ہیں کہ کوئی فریش ڈگری والا تین سال تک نہ ہی اکیلے تحقیق کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی گرانٹ لے سکتا ہے اور نہ ہی وہ اتنی جلدی طلباکو سپروائز کرسکتا ہے ۔ اگر اس طرف تھوڑا غور کیا جاتا تو شاید یہ بے روزگار پی ایچ ڈی دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے ۔کیونکہ اگر یونیورسٹیوں میں انہیں ملازمت نہیں ملتی تو کسی تحقیقی کام میںا نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ اس لئے وہ احتجاج پر مجبور ہیں اور دوسری جانب بیرون ملک جانے والے پی ایچ ڈی سکالر جب اپنے دوستوں کا پاکستان میں حال دیکھتے ہیں تو وہ واپس نہ آنے کا ہی سوچتے ہیں اور یوں جو واپس آجاتے ہیں وہ پھر اس وقت کو ستے ہیں کہ وہ ملک واپس کیوں آئے ۔ میں خود ایسے پی ایچ ڈی ڈاکٹر زاور پوسٹ ڈاکٹریٹ والوں سے ملا ہوں ۔ جو ابھی تک بے روزگار پھر رہے ہیں ، اور بہت سے ایسے دوست بھی ہیں جو واپس اپنے سپروائزروں کے پاس ان ممالک چلے گئے ہیں جہاں سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے ، کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ایسے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی ہیں جنہوںنے چھ سال پہلے ڈگری حاصل کی ہے مگر وہ اپنی فیلڈ کے علاوہ ایک ادارے میں جاب کر رہا ہے ۔ اور جب بھی کوئی ملتا ہے تو اس کا موقف ہوتا ہے کہ پی ایچ ڈی سے بہتر ہے بندہ اپنا کاروبار کرے ۔کیونکہ اس ملک میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں کہ وہ ملک کی خدمت کرسکیں تو وہ ڈگری حاصل کرکے واپس کیوں آئیں جب ان کی کوئی قدر ہی نہیں کی جاتی ۔