اسلام آباد دھرنا کا بالخیر اختتام

حکومت اور فیض آباد کے مقام پر دھرنا دینے والی مذہبی جماعت کے درمیان معاہدہ اطمینان کا باعث امر ہے، البتہ معاہدے کے نکات قابل غور ہیں۔ معاہدے کے اہم نکات کے مطابق،حکومت فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرے گی۔ حکومت پاکستان، فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گی۔ فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔ تحریک لبیک کا دھرنا کابغیر کسی قیمتی جان کے ضیاع کے پرامن طور پر اختتام پذیر ہونا خوش آئند امر ہے۔ قبل ازیں اسی تنظیم کے گزشتہ حکومت میں دھرنا اور اس کا اختتامی باب ابھی تک زیربحث ہے، اس دھرنے کو تحریک دلانے والوں کانام لینے کی دھمکی کی ویڈیو بھی چل رہی ہے، بہرحال اس سے قطع نظر حرمت خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰۖ پر جان قربان کرنا ہر کلمہ گو کا عزم ہے۔ عاشقان رسولۖ نے کئی مرتبہ اسے ثابت بھی کیا ہے، تحریک لبیک کی قربانی اور جذبے کو سلام پیش کرتے ہوئے اگر معاہدے کے نکات کاجائزہ لیا جائے تو ان شرائط پر عملدرآمد کا سوال خاصا اہم اور یقینی اس لئے ہے کہ حکومت شاید اس معاہدے پر عملدرآمد نہ کرپائے اور ایک مرتبہ پھر اس پر عمل درآمد کیلئے شاید دھرنے اور احتجاج کی نوبت آئے۔حکومت کیلئے فرانس سے تجارتی وسفارتی تعلقات کیلئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آزاد اور ملکی فضا اس کیلئے ساز گار ہے۔ ایسا کوئی معاہدہ جس پر عملدرآمد کا سوال اُٹھے وقتی طور پر تو صورتحال کو ٹالنے کیلئے بہتر ہوگا لیکن اس پر عملدآمد اور اس سے پیدا ہونے والے حالات سے حکومت کس طرح نمٹ پائے گی اس سوال کا جواب معاہدے کی حکومتی ٹیم جتنا جلد تلاش کرپائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
مہنگائی دعوئوں سے کم نہیں ہوگی
اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کی شرح میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں مزید کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے تاہم دوسری طرف ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کی اکثریت پریشان ہے اور زیادہ تر لوگ مہنگائی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو سمجھتے ہیں۔ سروے رپورٹ میں مہنگائی سے اثرانداز ہونے کے سوال پر 97فیصد افراد نے اس سے متاثر ہونے کا کہا جبکہ 3فیصد نے اس کے برعکس رائے دی۔ مذکورہ بالا سروے رپورٹ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سو میں سے 97فیصد افراد مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں باقی تین فیصد کوئی قابل ذکر تعداد نہیں اور اس طرح کے افراد ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ممکن ہے ان کی تعداد قدرے زیادہ بھی ہو لیکن ملک کی ستانوے فیصد افراد مہنگائی سے متاثر ہیں اور محض تین افراد مطمئن ہیں' آٹے میں نمک کے برابر یہ تعداد طبقہ امراء کی ہی ہو سکتی ہے' اگر مذکورہ سروے رپورٹ سے ہٹ کر بات کی جائے تو یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عوام کی اکثریت مہنگائی کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتی ہے ۔ گذشتہ چند دنوں میں ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا ہے' اس معمولی اضافے کے مہنگائی کی شرح پر کوئی اثرات مرتب نہیںہوئے ہیں جبکہ عام مارکیٹ میں صورتحال جوں کی توں ہے۔ امریکی ڈالر کا 170سے 158پر آنا یقینا حکومتی پالیسیوں کی کامیابی ہے' لیکن اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ رہا ہے ' اگرچہ ڈالر کو مزید نیچے آنا چاہیے، ماہرین کے مطابق 130اور 135سے زیادہ ڈالر کی قیمت نہیںہونی چاہیے تاہم پھر بھی اگر 170روپے سے 158روپے کا حساب لگایا جائے تو 12روپے کی کمی آئی ہے' اس واضح کمی کے فوائد اگر عوام کو مہیا نہیںکیے جا رہے تو حکومت کی طرف سے مہنگائی کی شرح میں کمی کا دعویٰ درست نہیں ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ضرور کی گئی ہے مگر دوسری جانب اس کمی کے اثرات کو عوام تک منتقل کرنے کے اقدامات کی بجائے لیوی اور ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے یوں عوام ا س اُمید سے بھی مایوس اور محروم رہ گئے۔ وزیراعظم کے مزید اقدامات کی ایک بہتر صورت پٹرولیم لیوی اور اس پر ٹیکس کی شرح میں کمی اور بجلی وگیس پر اضافی سر چارچ میں کمی کی صورت میں ہوسکتی ہے لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ حکومت آمدنی میں اضافہ کے جتن تو کرسکتی ہے عوام کو ریلیف کے اقدامات کی توقع نہیں۔اس کے باوجود اگرمہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے تو عوام تک اس کے فوائد نہیں پہنچ رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان عوامل کا جائزہ لے اور مہنگائی کی شرح میں حقیقی معنوں میں کمی کیلئے اقدامات اُٹھائے تاکہ عام شہری تک مہنگائی میں کمی کے اثرات پہنچ جائیں اور وہ قدرے بہتر محسوس کر پائے۔
اونچی دکان،مہنگی اور مضر صحت پکوان
یونیورسٹی روڈ پر ایک نہایت معروف فاسٹ فوڈ آئوٹ لٹ کیخلاف فوڈ ایکٹ کے تحت کارروائی چشم کشا ہے، لوگ سوپچاس روپے کی چیز بڑے بڑے ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ شاپس سے دوتین سے زائد گنا رقم پر اس لئے ہی خریدتے ہیں کہ ان کی دانست میں باہر سے چمک دمک اور صفائی کی صورتحال ان کے کچن خوراک ذخیرہ کرنے اور خوراک تیار کرنے کے عمل میں بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہوگا مگر ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی کا انکشاف نہایت افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ محولہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے حوالے سے فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے کارروائی کر کے اپنی ذمہ داری تو پوری کردی ہے، صارفین اگر خود اپنے مفاد میں اپنی محنت کی کمائی اس طرح کے کاروباری اور لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو اپنے ہاتھوں بخوشی دینے کی بجائے اگر گھر پر ہی اشیاء خود خرید کر خود بنا نا شروع کریں تو سستا، صاف ستھرا اور معیاری وحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھاپی بھی سکیں گے اور خطیر رقم کی بچت بھی ہوگی۔