بچوں سے زیادتی/ ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ آ گیا،سرغنہ سہیل ایاز کو 3 بار پھانسی، 3 بار عمر قید کی سزا

ویب ڈیسک (راولپنڈی):ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہانگیر علی گوندل نے بچوں سے زیادتی اور ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا، ملزم سہیل ایاز سینٹرل جیل اڈیالہ سے پولیس کی کڑی نگرانی میں عدالت پہنچایا گیا، استغاثہ کی جانب سے سہیل ایاز کے خلاف تین مقدمات میں عائد الزامات درست ثابت، عدالت نے ملزم سہیل ایاز کو دفعہ 367/اے کے تحت تین مرتبہ سزائے موت کی سزا سنا دی، ضابطہ فوجدرای کی دفعہ 377 کا جرم ثابت ہونے پر الگ الگ تین مرتبہ عمر قید کی سزا کا حکم، مجموعی طور 15 لاکھ روپے جرمانہ ادائیگی کا حکم، سہیل ایاز کو منشیات کے مقدمہ میں ساڑھے 5 سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا، ملزم کو فیصلے کے بعد پولیس کی سخت نگرانی میں اڈالہ جیل منتقل کردیا گیا،سہیل ایاز کے ساتھی ملزم کالو کو بھی سات سال قید کی سزا کا حکم،مجرم سہیل ایاز پر بچوں سے زیادتی اور ویڈیو ویب پر جاری کرنے کے تین الگ الگ مقدمات تھانہ روات میں درج تھے،سہییل ایاز نے سینکڑوں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور انکی تصاویر اور وڈیوز ڈارک ویب پر نشر کیں، مجرم برطانیہ کے عدالت سے بھی چار سال کی سزا کاٹ چکا ہے، مجرم کی خلاف اٹلی میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ چلایا گیا، سہیل ایاز کے متعلق برطانوی اخبار دی گارڈئین میں بھی گیارہ سال پہلے تحقیقاتی خبر شائع ہوئی،روات پولیس نے ایک سال قبل ایس ایچ او کاشف اعوان کی سربراہی میں سہیل ایاز کو نجی ہاؤسنگ سوساٹئ سے گرفتار کیا تھا۔