وزیراعظم کی جوئے شیر لانے کی خواہش

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ سینیٹ کے انتخابات کیلئے آئینی ترمیم لا رہے ہیں۔انتخابی اصلاحات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کی بجائے سب کے سامنے ووٹ دیا جائے۔اس سے یہ ہوگا کہ سینیٹ کے الیکشن میں جو پیسہ چلتا ہے اور سینیٹ کے الیکٹورل پروسس میں جو کرپشن ہے وہ ختم ہو۔ اس کیلئے ہم ایک آئینی ترمیم لا رہے ہیں اور اب یہ باقی جماعتوں پر ہے کہ کیا وہ اس آئینی ترمیم کی حمایت کریں گی کیونکہ اس کیلئے دو تہائی اکثریت چاہیے ہوتی ہے جو ہمارے پاس نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، یہ آئینی ترمیم اس لئے لا رہے ہیں کہ پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات ہو۔ انہوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلق مزید کہا کہ وہ ملک میں الیکٹرونک ووٹنگ کا نظام متعارف کرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بھی ایسا نظام لا رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے ووٹ کا استعمال کر سکے۔ وزیراعظم نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ ایسا انتخابی عمل ہو جسے ہارنے اور جیتنے والے قبول کریں۔وزیراعظم جن انتخابی اصلاحات کے متمنی ہیں ان میں سے الیکٹرانک ووٹنگ رائج کرانے کیلئے حزب اختلاف کے تعاون کی بجائے وسیع تر انتظامات کی ضرورت ہوگی اور ملک گیر نظام کے قیام کیساتھ اس نظام کو ووٹنگ کے دن پوری طرح فعال رکھنے اور ملک کے تمام علاقوں میں بجلی کی موجودگی یقینی بنانا ہوگی، اس کا تجربہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر نادرا کے تعاون سے ہوچکا ہے لیکن محدود پیمانے پر بھی الیکٹرانک ووٹنگ کا عمل کامیاب نہ ہوسکا بہر حال وزیراعظم الیکشن کمیشن اور نادرا اس حوالے سے کس قدر وسیع اور مؤثر انتظامات یقینی بنا سکیں گے اس حواے سے وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ اگر ایسا نظام جو شفاف، کامیاب اور خاص طور پر کسی بھی سطح پر اس میں مداخلت اور اسے ناکام بنانے کا عمل ممکن نہ ہو اس کا خیرمقدم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ الیکشن کمیشن کو آر ٹی ایس بیٹھ جانے یا پھر اس میں مداخلت پر جس طرح کی تنقید کا سامنا ہے اور جس طرح سے انتخابات کے پورے عمل پر اُنگلیاں اُٹھتی رہی ہیں وہ موجودہ حکومت کو تسلیم نہ کرنے اور وزیراعظم کو منتخب کی بجائے چنتخب قرار دینے کا باعث بنا ہوا ہے اور اسی بنیاد پر پی ڈی ایم حکومت کیخلاف میدان عمل میں ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو اس ضمن میں اعتماد میں لینے اور کوئی متفقہ اور سب کیلئے قابل قبول لائحہ عمل کیساتھ ہی الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام متعارف کرانا بہتر ہوگا، جہاں تک وزیراعظم کے دوسرے دو اعلانات کا تعلق ہے یہ دوتہائی کیساتھ قانون میں ترمیم کے بعد ہی ممکن ہے جو حزب اختلاف حکومت اور وزیراعظم کو منتخب تک تسلیم کرنے پر تیار نہیں، ان کا حکومت کی ایوان میں حمایت جوئے شیر لانے سے بھی مشکل امر نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نے بغیر کسی ہوم ورک کے محض اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے جسے عملی صورت دینے کی نوبت شاید ہی آئے اور اگر وزیراعظم واقعی اس عمل میں سنجیدہ ہیں تو پھر ان کو خود حزب اختلاف سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کو وزیراعظم خود بھی دعوت دیں تو بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ حزب اختلاف ان کی پیشکش کو یکسر مسترد کرے گی یا پھر کسی پارلیمانی کمیٹی یا مشاورت کی تجویز پر آمادہ ہوپائے گی۔ جہاں تک سینیٹ کے انتخابات میں کروڑوںبلکہ اربوں روپوں کا کھیل ہونے کی بات ہے یہ کوئی کہانی نہیں حقیقت ہے کہ نوٹوں کی بوریاں کھول کر ہی سینیٹ کے انتخابات ہوتے ہیں۔ تقریباً ہر جماعت ہی متمول اور دل کھول کر پیسہ خرچ کرنے والوں ہی کو اُمیدوار نامزد کرتی ہے اور پیسہ پھینک تماشا دیکھ قسم کے اُمیدوار ناقابل یقین حد تک انتخاب جیت بھی جاتے رہے ہیں، البتہ سینیٹ کے الیکشن کے سارے عمل پر اس صورتحال کو منضبط کرنا درست نہیں۔ سیاسی حمایت اور جماعتی نظم کی پابندی سے بھی اُمیدوار منتخب ہوتے ہیں جس سے قطع نظر سینیٹ کے انتخابات کو پیسے کا کھیل بنانے کی روک تھام کی تجویز احسن اور سب سیاسی جماعتوں کے مفاد کا تقاضا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی مخالفت اور حکومت ووزیراعظم کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے سوال کو ایک طرف رکھ کر قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے تاکہ سینیٹ کے انتخابات میں گھوڑوں کی خرید وفروخت اور ممبران کے لوٹا بننے کے عمل کا خاتمہ کیا جائے۔ جماعتی نظم وضبط کی پابندی اور پارٹی اُمیدواروں کی کامیابی کا سہل راستہ اعلانیہ ووٹنگ ہے، اس ضمن میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا سوال بھی اُٹھے گا اور اکثریت نہ ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر چیئرمین منتخب ہونے والے عہدیداروں کے عہدوں سے استعفے کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ سینیٹ کے الیکشن کو صاف شفاف بنانے کی عملی ابتداء ہو۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شامل کئے جانے کی ہر سیاسی جماعت کو حمایت کرنی چاہئے۔ وزیراعظم نے بیان دے کر جس بحث کی ابتداء کی ہے اس کا تقاضا ہے کہ عملی طور پر اس ضمن میں پیشرفت کی جائے اور اسے محض سیاسی بیان کی حد تک نہ رہنے دیا جائے۔