جمہوریت اور اسمبلی میں ہنگامے

خبر گرم ہے کہ جمہوریت کے اڑیں گے پزرے' لاکھوں کروڑوں لوگوں کے ساتھ ہم نے بھی تماشا دیکھا بلکہ مسلسل دیکھ رہے ہیں ' یہ منتخب(الیکٹڈ) لوگ ہیں یعنی عوام نے بائیس کروڑ میں سے دس کروڑ ووٹ ڈالنے کے اہل لوگوں نے ان کے بکس میں ہزاروں لاکھوں ووٹ ڈال کر کئی امیدواروں پر ان کو ترجیح دی ہے ۔ لیکن ان کے کرتوت دیکھ کر جہاں عوام(ووٹرز) کی فہم وفراست پر افسوس اور شک ہوتا ہے وہاں اس نظام پر بھی تین حرف(لعن) بھیجنے کوجی چاہتا ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں اور بالخصوص پاکستانی جمہوریت جس کے بارے میں ہمارے دو تین جرنیلوں ' یعنی ایوب خان ' ضیاء الحق اورپرویز مشرف نے ا پنے اپنے وقت میں جو رائے ظاہر کی تھی ' اگرچہ بعض اصلی جمہوریت پسندوں نے اس کا بہت برا منایا تھا ' لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی رائے اور فکر میں پوری نہ سہی ' آدھی سچائی ضرور موجود ہے ۔ ایوب خان نے اسی لئے بنیادی جمہوریت کا نظام دیا تھا ' جنرل ضیاء ا لحق نے شورائی نظام کا جمہوریت کو تڑکہ لگانے کی سعی کی تھی اور جناب مشرف نے مکا وغیرہ لہرا کر جمہوریت کے مقابلے میں طاقت کے اظہار کو برملا ترجیح دی تھی اور یہ قول زریں بھی عطا فرمایا تھا کہ ''بعض خطے(جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ وغیرہ) اور لوگ جمہوریت کے لئے سازگار مزاج اور ماحول نہیں رکھتے اس لئے وہاں امریت ' بادشاہت اور کچھ ملی جلی اور ڈھیلی ڈھالی آمریت اور جمہوریت کا مربہ وغیرہ بہتر رہتا ہے ۔
موجودہ وزیر اعظم بھی کئی بار چینی طرز نظام حکومت اور سعودی بادشاہت وغیرہ کی تحسین اور خواہش کرچکے ہیں اگرچہ جس طرح جمہوریت میں بیسیوں خامیاں ہیں ' اسی طرح جمہوریت سے ہٹ کر نظام ہائے حکومتوں میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں۔ اس لئے انسانیت عرصہ دراز سے ایک ایسے نظام اور طرز حکومت کی متلاشی اور سرگرداں ہے جس میں اسے جاں مال آبرو کی حفاظت اور روحانی سکون میسر آئے اور تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ بات بخوبی واضح اور سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء کرام میں سے کئی ایک نے وہ نظام رائج کروایا تھا اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو بدرجہ اتم و کمال مدنی ریاست میں نافذ کروا کر دکھایا تھا ۔ آپۖ کے بعد آپۖ کے خلفائے راشدین نے اس نظام کو دنیا بھر کے لئے بطور مثال ونظیر رواج کمال و معراج پر پہنچا کر چھوڑا تھا ۔ اور پھر دنیا میں بادشاہت اور آمریت قائم ہوئی اور وہ بھی ساری خرابیوں کے ساتھ تو اولیاء احبار ورھبان اہل اقتدار سے الگ ہو گئے یوں قیصر کی قیصریت اور کلیسا کے درمیان ہمیشہ کے لئے تعلقات منقطع ہو گئے ۔ وہ دن اور آج کا دن ' دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں انسانیت پر حکومت کرنے کے لئے مختلف نظام آزمائے جاتے رہے ہیں جن میں سے گزشتہ دو صدیوں سے جمہوریت(مغربی سیکولر جمہوریت) دیگر نظام ہائے حکمرانی پر بازی لے گئی ہے ۔ بلکہ اب تو ایسی دھاک بٹھائی ہے کہ اچھے اچھے مارے خوف تردید و مخالفت کے اس کے خلاف کچھ کہہ بھی نہیں سکتے حالانکہ پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں کے لئے نہ جمہوریت میں خیر ہے اور نہ ہی آمریت میں۔ بھلا اب سوال پیدا ہو گا کہ پھر کیا کیا جائے ۔۔ آخر کروڑوں لوگوں کو کنٹرول کرنے اور ان کے معاملات چلانے کے لئے کوئی نظام تو وضع کرنا ہی ہو گا۔۔ یقیناً اور ضرور ' کہ اس کے بغیر گزارہ نہیں۔۔۔ لہذا اس بات کے لئے ضروری ہے کہ اہل علم و دانش ' صاحبان فضل و حکمت اور ہر شعبہ زندگی کے ماہرین سرجوڑ کر علماء حق اور اولیائے کرام سے قرآن و سنت کی رہنمائی میں موجودہ عالمی حالات اور تقاضوں کے مطابق قدیم و جدید کی حسین ' مناسب و معتدل امتزاج و آمیزش لئے ہوئے کوئی ایسا نظام واضح اور دو ٹوک الفاظ و بیان میں پیش کرے جس پر اہل رائے کا اتفاق ہو سکے ۔۔۔ اور عالم اسلام اپنے منزل کی طرف اپنا سفر شروع کر سکے اگرچہ اس وقت اس قسم کی باتیں ایک علمی مباحثے کے علاوہ شاید اہل اقتدار کے کانوں پر جوں تک رینگوانے کا کام بھی نہ کرسکے لیکن نئی نسل کی آگاہی اور ان کو فکری غذا کی فراہمی میں تو کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔جمہوریت اور سرمایہ داری کا جو نظام ہے ' اسی کے خاتمے کی خواہش کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے منتظر تیری روز مکافات!
اور جمہوریت کے بارے میں علامہ اقبال کے افکار اہل دانش سے پوشیدہ نہیں اور بعض لبرلز ان پر اس لئے تابڑ توڑ حملے بھی کرتے ہیں۔۔ جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے تو لازوال ہے ۔ ایسی جمہوریت کا جس کے تحت ہماری اسمبلیوں میں گالم گلوچ ' کتاب باری اور دھینگا مشتی ہوتی ہے ' اندروں چنگیز سے بھی تاریک تر قرار دیا تھا۔
اللہ ہم پر اور پاکستان پر رحم فرمائے آمین