15 روز کے لیے صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن کا اعلان

کراچی: وزیر اعلی مراد علی شاہ نے آج اتوار کی رات 12 بجے سے صوبے بھر میں 15 دن کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ تاہم دوسری طرف وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں ایک بڑی بحث چلی ہوئی ہے کہ لاک ڈاؤن کر دینا چاہیے لیکن پورے ملک کے لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو لگانا ہے۔
وزیرِاعلی سندھ کے مطابق انہوں نے تمام جماعتوں، علما اور دوستوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سارے دفاتر بند ہوں گے اور اجتماع کی جگہوں پر پابندی عائد ہوگی۔ غیر ضروری طور پر لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وزیراعلی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا گیا کہ اگر کوئی ضرورت سے باہر نکلے تو اُس کو اجازت ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور اس کے ساتھ صرف ایک شخص کی اجازت ہوگی۔ 'اگر کوئی شخص کسی کام سے نکلے تو اُس کے ساتھ سی این آئی سی ہونی چاہیے۔ کوئی شخص بیمار ہے تو اُس کو ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔'
صوبائی حکومت نے سندھ میں لاک ڈاؤن کے فیصلے پر عملدرآمد کی غرض سے فوج سے پہلے ہی مدد مانگ چکی ہے۔

اتوار کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔
’ہم یہ سخت فیصلے اس لیے کرنے جارہے ہیں تا کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچا سکیں۔ مجھے آپ کی صحت اور زندگی عزیز ہے۔‘
اجلاس میں صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ، کور ہیڈکوراٹر کے بریگیڈیئر وسیم، اے جی سندھ، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی شریک تھے جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

لاک ڈاؤن کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام بنیادی ضروریات بشمول کھانا اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔ ’لاک ڈاؤن کے دوران بجلی، گیس، پانی انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بلا تعطل فراہمی جاری رہے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام یوٹیلیٹی سروسز، پانی، بجلی، گیس، نکاسی آب اور دیگر سہولیات بلا تعطل شہریوں کو ملتی رہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام بینکوں کے اے ٹی ایم کھلے رہیں گے جبکہ بینک ضرورت کا سٹاف بلوا کر کام جاری رکھیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاور ڈسٹریبیوٹر کمپنیوں کیسکو، سیپکو، اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ، ’جن لوگوں کا بل 5،000 روپے تک ہے اُن سے مہینہ کا بل نہ لیں، بلکہ اگلے 10 مہینوں میں اس کی قسطیں کر کے وصول کر لیں۔‘
’یہ ہدایت سوئی سدرن گیس کے لیے بھی ہے۔ جن کا بل 2000 روپے تک کا ہے اُن کا بل اس مہینے نہ لیا جائے، یہ بل اگلے 10 ماہ میں قسطوں میں لیں۔‘ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اگلے دو مہینوں میں کوئی بجلی یا گیس کنیکشن کاٹے نہیں جائیں گے۔

دریں اثنا عوام کے نام جاری ایک وڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ نے مخیر حضرات سے گورنمنٹ فنڈ میں عطیات دینے کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سندھ بینک میں ایک اکاؤنٹ قائم کیا گیا ہے۔ ’مجھے یقین ہے کہ عوام میری بھرپور مدد کریں گے۔‘
'لاک ڈاؤن کر دیا تو دیہاڑی دار کہاں جائیں گے'
آج اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 'پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ ہمیں ایک قوم بننا ہوگا۔ اگر کورونا وائرس سے بچنا ہے تو ہسپتال جانے کے بجائے خود کو گھروں میں لاک ڈاؤن کریں۔'
'اگر پاکستان کے وہ حالات ہوتے جو اٹلی، فرانس اور امریکہ کے ہیں تو میں لاک ڈاؤن کر دیتا۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ 25 فیصد پاکستانی شہری غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں۔'

وزیراعظم کے بقول 'اگر ہم گھبرا کر افراتفری نہ پھیلائیں تو مجھے یقین ہے کہ چین کی طرح ہم بھی کورونا وئرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ٌ
ان کا کہنا تھا کہ 90 فیصد لوگوں کو کورونا وائرس فلو کی طرح ہوگا جو چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کرنے سے ریڑھی والے اور مزدور طبقہ گھروں میں قید ہو جائے گے۔ 'ہم انہیں گھروں میں کھانا نہیں دے سکتے۔ چین کے پاس وسائل تھے وہ ایسا کر سکتا تھا، ہم نہیں کر سکتے۔'