3 451

پاکستان نیوٹرل رہے گا

پاکستان 1980ء سے لے کر 2021ء تک اپنے ایک ایسے پڑوسی کے سبب اور ہاتھوں جسے چھچھوندر کی مانند نہ نگلا جا سکتا ہے اور نہ اُگلا جاسکتا ہے ‘ بہت بری طرح متاثر رہا۔ ذرا تصور کیجئے کہ سردار دائود خان کے ہاتھوں ظاہر شاہ بادشاہ کے تخت کو اُلٹنے میں آخر پاکستان کیا ہاتھ اور قصور تھا۔ جس کے بعد ایک ایسا کھیل شروع ہوا کہ پاکستان کا کوئی قصور اس کھیل میں سوائے اِس کے کچھ نہ تھا کہ یہاں امن خیر ہو۔ تاکہ پاکستان میں بھی خیر ہو۔ البتہ پاکستان کی اتنی خواہش ضرور رہی ہے کہ چونکہ اسے مشرقی سرحدوں پر ایک ایسا ازلی مخاصم پڑوسی ملا ہے جس کا شروع دن سے پاکستان کو زک و نقصان پہنچانے کے علاوہ کوئی دوسرا اہم ویژن اور مشن ہے نہیں ۔ لہٰذا مغربی سرحدوں پر امن و سلامتی اور افغانستان کے اندر ایک ایسی حکومت کا خواہاں ہے کہ جس کے پروں کے نیچے مشرقی سرحدوںوالی پڑوسی (بھارت) انڈے نہ دے سکے… اس کو لوگوں نے پاکستان کی سٹریٹجک ڈیپتھ کا نام دیا۔ اگرچہ یہ پاکستان کا ایک فطری حق بھی تھا کیونکہ پاکستان کے یہی خدشات 1978ء میں کابل میں انقلاب ثور برپا کرنے کی صورت میں سچ ثابت ہوئے۔ 1979ء میں افغان عوام اس انقلاب کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تو 24دسمبر 1979ء کو روس نے پوری قوت کے ساتھ حملہ کر کے تورخم بارڈر کے لیے شدید خطرات پیدا کیے۔ یہاں تک کہ ماسکو سے اعلان ہوا کہ ہم دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیں گے(خدا نہ کرے) … ایسی صورت میںکیا پاکستان کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ اپنی سرحدوںکی حفاظت اور ملکی سلامتی کے لیے دامے درمے و سخنے کچھ کرے۔ 1991ء میں روس کے نکلنے اور 2001ء میں امریکہ کے افغانستان میں در آنے سے لے کر آج تک افغان سرزمین پر پاکستان کے خلاف بالخصوص 2006ء سے موجودہ دور تک را، این ڈی ایس اور بعض دیر عالمی ایجنسیوںنے پاکستان کے خلاف جو گھنائونا کھیل کھیلا اُس کا نتیجہ پچہتر ہزار قیمتی جانوں کے اتلاف اور ایک سو پچاس ارب ڈالر کے معاشی نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔ گذشتہ پندرہ سالوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر جو گزری سو گزری، اور ایک مضمون یا کالم میں اُس کا احاطہ ممکن ہی نہیںلیکن یہ پاکستان ہی کا سینہ ہے کہ پھربھی تیس لاکھ افغان مہاجرین کو چالیس برسوں تک برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ افغان قوم پرستوں اور وہاں کی کرزئی اور غنی حکومتوں کے طعن و تشنیع بھی برداشت کرتا رہا۔ پھر بھی پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی کہ افغانستان کا بھلا ہو اور افغانیوںکو امن نصیب ہو۔ بقول فیض
ہم پہ جو گزری سو گزری مگر اے شب ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے
افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف جو جو منصوبے ، سازشیں اور فریب کے جال بچھائے گئے اُس میں تازہ چیز وزیر ستان کی زمین سے پی ٹی ایم کی تحریک تھی۔ جس کی افغانی صدر اور پارلیمنٹ نے اعلانیہ تائید و حمایت کی۔ اس تحریک نے جو نعرے اپنے کارکنوں اور ورکروں سے لگائے، کیا اُس کا کسی طرح بھی جواز بنتا ہے۔ یہاں تک کہ اس میں پاکستان مردہ باد (خاکم بدہن) اور اسرائیلی آرمی زندہ باد، دہشت گردی کے پیچھے وردی جیسے مذموم و مسحوم نعرے بھی شامل تھے۔
”بروبر” یو پشتون (بوئے پشتونستان) وغیرہ نعرہ تو افغانستان کی ایجاد تھی ہی، اور ایک معنی میں یہ کوئی اتنی بری بات نہیں کہ پشتون بہرحال ایک قوم ہے اور اصول یہ ہے کہ اقلیتی آبادی اکثریتی میں ضم ہوتی آئی ہے لہٰذا اگر افغانیوں کو واقعی پاکستان کے پشتونوں سے اتنی محبت ہے تو افغانستان کا پاکستان سے کفیڈریشن کروائیں۔ لیکن اس تحریک کے ذریعے پاکستان سے آزادی کے نعرے لگوانا اور افغان شعراء اور مصوروں کی اس کی تائید میں اپنی فنکاری کے کمالات دکھانا یقینا را، اسرائیل اور این ڈی ایس کے شاخسانے ہیں۔ اور ان قصوں کی تاریخ 1947ء کے اُس دن سے شروع ہے جب پاکستان قائم ہوا۔ اور ایک پاکستانی آخر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہم نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ کھاتے پیتے ، اُٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے پاکستان میں ہو اور کڑ کڑ بھارت کے ساتھ کر کے انڈے بھی وہاں دیتے ہو۔
اب جب کہ ایک دفعہ پھر ایک تاریخ موڑپر پاکستان نے نیوٹرل یعنی نہ اشرف غنی حکومت کے ساتھ اور نہ ہی طالبان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے ، امرللہ صالح اور صمدللہ محب جیسے بدبخت پھر بھی پاکستان پرتہمت و بہتان لگانے سے باز نہیں آتے۔ شاید ایسے ہی افغانوں کے بارے میں شیخ سعدی نے کہا تھا کہ
خری و احمقی وجھل بہ افغان دارند
لیکن خاطر جمع رکھیں ، اس دفعہ پاکستان میں پاک افواج اور حکومت نے متحد ہو کر اور سوچ سمجھ کر گذشتہ حالات سے سبق لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں افغان عوام کی حمایت و تائید سے قائم ہونے والی حکومت کے ساتھ برادرانہ و ہمسایانہ تعلقات کے لیے ہر وقت تیار رہے گا لیکن نہ تو اشرف غنی کی حکومت کے استحکام و استقلال کے لیے طالبان کے خلاف لڑے گا اور نہ ہی طالبان کی حمایت کرے گا۔ بھلے چند ناعاقبت اندیش پاکستان پر طالبان کی حمایت و تعاون کے الزامات لگاتے پھریں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے گذشتہ مہینہ ڈیڑھ میں عالمی و علاقائی میڈیا چینلوں کے اینکرز کو اپنے انٹرویوز میں پاکستان کے اس غیر جانبدارانہ مؤقف کو ببانگ دہل اور باالفاظ صریح دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس لیے اب شاید وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ افغان قوم آپس میں متحد ہو کر ایک ایسی حکومتی قائم کرے جو عوام کی اکثریت کو قبول ہو اور وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پاکستان کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیادپر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کام کرے اور اس خطے میں امن قائم ہو اور عشروں سے برباد عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو۔