مشرقیات

کہتے ہیں دعا میں بڑا اثر ہوتا ہے مگر ساتھ میں ایک شاعر کا یہ فرمان بھی بڑا مقبول ہے کہ دل چاہتا نہ ہوتو دعا میں اثر کہاں؟بندے کا خود ہی صراط مستقیم پر چلنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ خود اپنے لئے دعا کرنے سے بھی شرماتا ہے اسے ایسے بابوں کی تلاش رہتی ہے جو ہاتھ اٹھاتے ہی گناہ گاروں کا بیڑہ پار لگا دیتے ہیں یہ اور بیڑہ ڈبونا ہو یا پار لگانا ،یہ بندے کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے کہتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے اور یوںشاعر کا کہا بھی درست قراردیا جا سکتا ہے کہ دل چاہتانہ ہو تو دعا میںاثر کہاں؟
ہمارے ایک جاننے والے کو غم غلط کرنے کے لئے چسکی کی لٹ لگی ہوئی تھی ایک بار نشے کی حالت میں حضرت وعظ کے ہاتھ چڑھ گئے۔پکا وعدہ کر لیا آئندہ چسکی نہیں بھریں گے،تائب ہونے کے دوچار دن بعد زاہد صاحب اپنے واعظ کے اثرات کا جائزہ لینے انہیں ملنے آئے تو چسکی کی بجائے انہیں چسکا لگا ہوا تھا ،حضرت واعظ کو سخت مایوسی ہوئی ،ناگواری سے بولے آپ نے توبہ کی تھی پھر بھی انگور کی بیٹی کو منہ لگایا ہوا ہے۔رندانہ جواب شعر کی صورت ملا،
شاید کہ ابھی پہنچی نہ ہو باب قبول تک
ساقی ذرا سی اور کہ توبہ سفر میں ہے
شعر سننے کے بعد واعظ پند ونصائح کی گٹھڑی کھولنے کی بجائے لاحول پڑھ کر چلتے بنے۔
ایسے ہی ایک رند اپنی اصلاح کے لئے بابوں کی تلاش میں رہتے،کئی بابوںنے انہیں دعائوں کے ذخیرے سے نوازا مگر کوئی ایک دعا بھی باب قبول تک نہیں پہنچی،بہرحال دعا کی قبولیت کی بجائے انہیں بابوں کی تلاش کا شوق تھایہ شوق بھی ایک بابے کے ہاتھوں تب تمام ہوا جب انہوں نے بابے سے دعا کی درخواست کی تو آگے سے بابے نے جھڑک کر کہا:”خود کیوں نہیں مانگتے ،کوئی ایسا کام خود کیوںنہیں کرتے کہ دعا باب قبول سے واپس نہ پلٹائی جا سکے۔”
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دعا میںاثر تب ہی ہوتا ہے جب وہ خلوص سے مانگی جائے اب کسی اور کو آپ سے اتنی چاہ نہیںہوتی جتنی خود آپ کو اپنی ذات سے ہوتی ہے۔اپنی ذات سے اسی محبت کے باعث زبان آپ کے دل کی رفیق بن جاتی ہے اور یوں دعا میں اثر پید ا ہوجاتاہے۔ایسا اخلاص یا توآپ کی ذات سے جڑا ہے یا پھر ماواں ٹھنڈیاں چھاواں ہی پورے خلوص سے آپ کے لئے ہاتھ اٹھا سکتی ہیں توپھر ادھر ادھر مارے مارے پھرنے کی کیا ضرورت ہے؟
چلتے چلتے غالب کی بھی سن لیں۔ایک مرتبہ محبوب بھی انہیں بزرگ یا کوئی پہنچا ہوا بابا سمجھ بیٹھے تھے ،ملتے ہی دعا کی فہمائش کر دی تو آگے سے مرزا کاجواب تھا
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے