کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

آگے بڑھنے سے قبل سٹیل ملز کے حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کا ایک پیرا پڑھ لیجئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سٹیل ملز کے لئے سی ای اوکا تقرر غیر قانونی تھا 2019-20ء کے دوران سٹیل ملز سے اربوں روپے کا قیمتی سامان چوری ہوا اور مل کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا۔ چوری کئے گئے سامان کی کل مالیت تین ارب 38 کروڑ ہے ۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سٹیل مل انتظامیہ ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کی خرچ کردہ 29ارب 92 لاکھ روپے کی رقم بھی واپس جمع نہیں کروا سکی۔ 5ارب روپے کی قیمتی اراضی پر قبضہ کر لیاگیا 250 ایکڑ اراضی کی فی ا یکڑ مارکیٹ ویلیو دو کروڑ روپے ہے ۔ آڈیٹر جنرل کے لئے یہ امربھی باعث حیرت رہا کہ سٹیل ملز کے پاس چھ سو سیکورٹی گارڈز ہیں اس کے باوجود تین ارب 38کروڑ کا سامان چوری ہوا اور پانچ ارب روپے سے زائد مالیت کی 250ایکڑ زمین پر قبضہ ہو گیا۔ یہ سارے نیک کام سال 2019-20ء میں ہوئے ۔ دوتین دن قبل این ڈی ایم اے بلوچستان کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی آڈٹ رپورٹ نے بھی لوگوں کو انگلیاں دانتوں میں دبانے پر مجبور کر دیا کیونکہ جس قیمت پر پانی کی چھوٹی بوتلیں اور ماسک وغیرہ خریدے گئے وہ حیران کن تھا۔ سچ پوچھیں تو بہت زیادہ حیرانی اس لئے نہیں ہوئی کہ ہم پچھلے برس سپریم کورٹ میں ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران این ڈی ایم اے کے اس وقت کے سربراہ کا یہ بیان سن پڑھ چکے تھے کہ کورونا کے فی مریض اخراجات 26 لاکھ روپے ہیں۔ اس بیان کے بعد ہوا کیا تھا یہ لکھنے سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ابھی کل ہی تو کہا ہے کہ اس ملک میں اقلیتوں جیسے حقوق اکثریتی آبادی کو بھی میسر نہیں۔باقی باتیں خود سمجھ لیجئے۔
لیجئے ہمارے محبوب وزیر اعظم نے گزشتہ روز بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ملک میں ریکارڈ تعداد میں موٹر سائیکلیں اورگاڑیاں فروخت ہوئی ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اوپر جارہا ہے ”۔ یاد آیا کہ ہمارے محبوب وزیر اعظم کے ایک پرانے محبوب جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک بار ملک میں ترقی اور خوشحالی کے بہتے دریائوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کروڑوں افراد کے پاس موبائل فون ہے موٹر سائیکلز دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہیں۔ غربت ہے کہاں؟۔ جنرل صاحب نے گزشتہ روز اپنی 78ویں سالگرہ دبئی میں منائی اس لئے ان کا پرانا بیان درست سمجھ لیا جائے کہ ملک میں غربت ہے کہاں؟ ۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ رواں سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ سوا سال کے دوران ملک میں دو کروڑ دو لاکھ افراد بیروزگار ہوئے تھے حکومتی کوششوں سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کو روزگار مل گیا ہے 40لاکھ افراد بیروزگار ہیں۔ تب ان کالموں میں عرض کیا تھا کہ وزیر خزانہ روزگار کی فراہمی کے حوالے سے غلط اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں وہ بیروزگاروں کی تو درست تعداد بتاتے ہیں لیکن روزگار کے معاملے میں وہ لاک ڈائون کے بعد نکلنے والی مارکیٹوں میں کام کرنے والے سیلز مینوں کو شمار کر رہے ہیں یہ حساب درست نہیں لاک ڈائون کے خاتمے کے بعد رواں سال جون تک دو کروڑ بیس لاکھ میں سے لگ بھگ 70لاکھ افراد کو رزگار مل سکا ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد بیروزگاروں کے ہجوم میں شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن کی وجہ سے جناب وزیر اعظم کے بہاولپور میں کئے ارشاد گرامی پر حیرت ہوئی۔ کیا وہ اس امر سے لاعلم ہیں کہ پچھلے تین برسوں میں مجموعی طور پر مہنگائی میں اڑھائی سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ‘ یوٹیلٹی بلز نے سفید پوش لوگوں کی کمر توڑ دی ۔ موٹر سائیکل عام سہولت کی سواری ہے عام آدمی کسی نہ کسی طرح اسے خریدنے کی کوشش اس لئے کرتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں دن بھر کے کرایوں سے موٹرسائیکل کی سواری اسے سستی پڑتی ہے ۔ رہی کاروں کی خریداری تو اس حوالے سے بھی یہ دیکھنا ہو گا کہ نقد رقم پر کتنی خریداری ہوئی اور بینک لیز پر کتنی۔ جنرل مشرف کے دور میں بینک لیز پر ریکارڈ گاڑیوں کی فروخت ہوئی تھی اور وہ اسے خوشحالی کی علامت قرار دیتے تھے اب بھی وہی غلطی دہرائی جارہی ہے۔
لیجئے ہمارے امیر انقلاب حضرت مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں پی ڈی ایم کا سربراہ اجلاس منعقد ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 29 اگست کو پی ڈی ایم کراچی میں پاور شور کرے گا۔ یعنی جلسہ منعقد ہوگا۔اس اجلاس سے قبل ملک میں بڑھتی ہوئی آزاد خیال (سیکولرازم) کو روکنے کے لئے انہوں نے دودن ادھر ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد خان اور قبلہ مولانا تقی عثمانی سے بھی ملاقاتیں کیں مولانا نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور یکطرفہ انتخابی اصلاحات کو مسترد کر دیا۔ پی ڈی ایم نے مہنگائی پر حکومت کی مذمت کی۔ امید کی جارہی تھی کہ پی ڈی ایم اپنے اس سربراہی اجلاس میں پارلیمنٹ سے استعفوں کی تاریخ اور لانگ مارچ کا اعلان کرے گی لیکن دونوں کام نہیں ہوئے ادھر پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ مولانا اور نون لیگ کسی سے طے کرکے آئے تھے کہ پیپلز پارٹی سے سندھ اسمبلی کا کھیل چھین کر دیا جائے گا ۔ خیر یہ سیاسی جماعتوں کے باہمی معاملات ہیں۔ فی ا لوقت ایک خبر یہ ہے کہ جیسا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے بعد لکھے گئے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ مرحوم چودھری نور حسین کے فرزند ارجمند بیرسٹر سلطان محمود سے آزاد کشمیر کا صدر بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے کوئی مشکل اور ضرورت نہ پیش آئی تو سلطان محمود آزاد کشمیر کے اگلے صدر ہوں گے ۔ اب امور کشمیر کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے باضابطہ طور پر بیرسٹر سلطان محمود کو پی ٹی آئی کی طرف سے آزاد کشمیر کے صدر کے لئے امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ لیجئے محترمہ مریم نواز کے صاحبزادے کی سابق احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمان کی صاحبزادی سے نسبت طے پا گئی ہے ۔22اگست کو لندن میںنکاح کی تقریب ہوگی ۔ اس رشتے نے عارف بلوچ سمیت بہت ساری کہانیاں یاد دلائیں بلکہ ندیم سعید نے تو بلیک پرنس والی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر دی ۔ چلیں دونوں پر کسی اور کالم میں بات کریں گے ۔