طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ناگزیر

سکول سطح کی تعلیم، تعلیمی شعبوں میں حکومتی اصلاحات ترقیاتی اور سیاسی حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہیں ۔ ترقیاتی لحاظ سے ان کا مقصد شہریوں کو علم و ہنر سے لیس کرنا ہے تاکہ وہ نجی اور معاشرتی ترقی کیلئے کردار ادا کرسکیں۔ ایک تعلیم یافتہ شہری ہی اپنی مادی اور فکری اہداف کو بہتر انداز میں حاصل کرسکتا ہے اور وہ معاشرے کیلئے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس تناظر میں تعلیم تک رسائی یقینی بنانا اور تعلیمی معیار بہتر بنانا ہر حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے۔ بحث یہ چل رہی ہے کہ آج کے پاکستان میں تعلیم تک رسائی اور تعلیمی معیار کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ کم فیسیوں والے نجی شعبے کے ذریعے تعلیمی انٹرپنیورشپ کو فروغ دے کر خلاء کو پرکیا جا سکتا ہے جس کیلئے حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ بعض ماہرین کا موقف ہے کہ چونکہ تعلیم کی سہولت فراہم کرنا آئینی حق ہے اس لئے سکول سطح کی تعلیم کیلئے ہر طرح کی مالی اور دیگر رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح بعض ماہرین ''ہائبرڈ ماڈل'' کے حامی ہیں ، جس کے تحت تعلیم تک رسائی اور معیار کا بنیادی ہدف حاصل کرنے کیلئے مختلف طرح کے تعلیمی نظاموں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔کسی بھی ملک کیلئے بچوں کا مستقبل انتہائی اہمیت معاملہ ہوتا ہے اوراسے بہت سنجیدہ لیاجاتاہے ۔ تعلیمی عمل کے حوالے سے نظام اور طریقہ کار میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن کم از کم اس کے مقاصد کے حوالے سے کسی حد تک اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ جب سکول کی تعلیم اور حکومتی ضوابط کا سیاسی حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو یہ اتفاق رائے پیچیدہ ہوجاتاہے۔ ایسا کرنے کی کئی وجوہات ہیں ؟ پہلی بات یہ ہے کہ سکول کے نظام کے نصاب کے ذریعے براہ راست تعلق شہری سے ہوتا ہے۔ تعلیمی نظام سے کس طرح کے شہری بنتے ہیں، سیکھنے کی عمر میں بچوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے اور اس پیغام کے آگے چل کر کیا اثر ات مرتب ہوں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں ،جنہیں کسی بھی ملک میں تعلیمی نظام سے متعلق ہونے والی بحث سے الگ رکھا جا سکتا ہے نہ رکھا جانا چاہئے۔ مغرب میں19ویں صدی کے آخر اور 20صدی کے اوائل میں ہونے والی پرائمری سکولوں کی توسیع کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیم تک رسائی انتہائی اہم ہدف کے طور پر سیاسی مشاورت کا مرکزی حصہ رہی ہے۔ جب ریاستوں نے انتخابی عمل کو توسیع دیتے ہوئے سیاسی شمولیت بڑھائی ہے توسکول سطح کے نظام تعلیم کو اہم گردانا گیا،جو شہریوں کو ذمہ دار اور مفید بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی سکولوں میں'' نسلی نظریے''کے بارے میں موجودہ بحث اسی رحجان کا حصہ ہے۔ قدامت پرست نہیں چاہتے کہ سکولوں میں نسلی پرستی سے متعلق حقائق کو پڑھایا جائیں۔ جبکہ اعتدال پسند نسلی عدم مساوات پر معاشرتی احتساب کیلئے کوشاں ہیں۔ سکول کی تعلیم کے سیاست سے تعلق کی دوسری وجہ ہے کہ اس نظام اور متعلقہ ریگولیشن کے نتائج طبقاتی تقسیم کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں منافع بخش نجی سکول کھولنے اور غیر ملکی اسناد کا نظام کی اجازت دیئے جانے کے بعد تین دہائیوں میں یہ ایک صنعت کی شکل اختیار کرگئے ہیں، جس میں کثیر تعداد انتہائی مہنگے نجی سکولوں کی ہے۔ او لیول نظام کے ذریعے بچوں میں ان کے طبقاتی پس منظر کی بنیاد تقسیم پیدا کردی گئی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع اس طبقاتی تقسیم بنیاد پر ہی ملتے ہیں۔ افسوسناک امریہ ہے کہ پالیسی بنانے والوںکے بچے انتہائی مہنگے سکولوں پڑھتے ہیں اورکسی دوسرے کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس بارے میں کوئی سوال اٹھائے ۔ یہ تعلیمی نظام کے ذریعے کی جانے والی سیاست کی روشن مثال ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے پاکستان کے تعلیم نظام کے جائزے خصوصاً یکساں قومی نصاب کے حوالے سے شہریوں کے نظریات اور طبقاتی تقسیم کے نتائج نے بنیاد بنائے۔ یکساں قومی نصاب کے باضابطہ اجراء کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ یہ تعلیمی نظام میں طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کے تحت مختلف قسم کے سکولوں میں درسی کتب کیلئے یکساں رہنما اصول مرتب کئے گئے ہیں۔ اگرچہ حکومت کاوش اچھی ہے لیکن بیوروکریسی کی طرف سے منظور کی جانے والے درسی کتب اور چھاپی جانے والی کتابوں میں جو فرق ہے، اس سے عملاً کس قسم کا معیار سامنے آئے گا؟ اگر مختلف نظام کے حامل انتہائی مہنگے سکولوں کے ذریعے طبقاتی تقسیم برقرار رکھی جاتی ہے تو کیا حکومتی کاوش کے اصل مقصد حاصل ہو سکیں گے؟ بعض والدین نے یہ تجویز دی ہے کہ درسی کتب کی منظوری میں سیاسی اثرورسوخ والوں کو ریگولیٹرز سے دور رکھا جائے ۔ اخلاق وتہذیب پرمبنی مضامین میں مذہبی احکامات کی شمولیت بھی واحد قومی نصاب کا اہم ستون ہے ، جن کے اثرات دور ہو تے ہیں۔ اگر بچوںکے نظریات ابتدائی برسوں میں مخصوص مذہبی نقطہ نظر کے ساتھ جوڑ دیئے جاتے ہیں تو پھر وہ کس قسم کے شہری بنیں گے؟ چنانچے تعلیمی نظام کے حوالے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان کے طویل مدتی اثرات کو دونوں ترقیاتی اور سیاسی حوالے سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ذمہ داری تعلیم نظام کی تشکیل کے ذمہ دار پالیسی سازوں کی ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف کے سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی بھی ہے کہ وہ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ بحث و مباحثہ کریں اور اس پورے عمل میں شفافیت لائیں۔ (بشکریہ،ڈان،ترجمہ: راشد عباسی)