Mashriqiyat

مشرقیات

عمر تو ساری گزری عشق بتاں میں مومن
آخری وقت میںکیا خاک مسلماں ہوں گے
مومن خان مومن نام کے دو بار مومن تھے مگر ان کی شاعری پڑھ کر بندہ خود مومن نہیں رہ سکتا۔یہ تو معلوم نہیں کہ خود انہیں اس قسم کی شاعری پر کتنی نصیحتیں سننی پڑی تھیں تاہم ہم نوجوانی میں ان کا مومنانہ کلام سردیوں کی لمبی راتوں میں رضائی میں ایسے ہی چھپاکر پڑھتے تھے جیسے آج کل کے نوجوان موبائل کے ساتھ خود رضائی میں راضی بہ رضا ہوتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ ہم سردیوں میں رضائی کو سر سے اوپر بھی کھینچ لیتے تھے اور آج کے نوجوان سردی گرمی کی پرواہ نہیں کرتے رضائی کے علاوہ کمبل کی بھی وہ جان چھوڑنے کوتیا رنہیں ہوتے۔ بات ہورہی تھی ناصحوں کی اور نکل گئی اوررضائی کی طرف۔لوٹ آئیے جناب!
تو کہنا یہ ہے کہ ایک دفعہ رنگے ہاتھوں جو پکڑے گئے مومن کے کلام کے ساتھ تو کوتوال بنے بڑے بھائی کے ہاتھوں شامت آگئی شامت اعمال کا مقام اس لئے بھی تھا کہ کل کلام چھیننے کے بعد بھائی نے کتاب کو درمیان سے کھولا تو ایک شعر میں محبوب کے ساتھ مومن خان مومن بے حجابانہ وصل کا ارتکا ب جرم کرنے والے تھے شعر تھا
شب وصال گل کردو ان چراغوں کو
خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
بھائی شعر پڑھ کر بجائے شاعر کے اس ارتکاب جرم کا مجرم بھی ہمیں سمجھ بیٹھے اور نصیحتوں کا جو پٹارا کھولا تو ہمیں نیند آگئی اور یہ بعد میں معلوم ہوا کہ بھائی کی نیند ہم سے کتاب اچک لینے کے بعد اڑ گئی تھی وہ اس طرح کہ بھائی بھی اس دن ہماری طرح دن بارہ بجے ناشتہ کرنے بیٹھے تھے یعنی اسی دن سے وہ بھی پکے مومن نہیں رہے جب بھی مسجد گئے مومن کے ایک اور شعر کی عملی تفسیر بنے ہم نے انہیں دیکھا
شب جو مسجد میںجا پھنسے مومن
رات کاٹی خدا خداکر کے
بھائی بہت جلد تائب ہوگئے ادھر ہمارا حال یہ تھا کہ مومن کے ساتھ ساتھ میر و غالب سے بھی شناسائی ہوگئی ،آتش کی بھی وراداتوں کا بھی اس نوجوانی میں سراغ لگایا،بعد میں احمد فراز کی غزل کے عشق میں خود بھی تک بندی کے قابل ہوگئے مگر تک بندی سے آگے جا نہیں سکے۔بہرحال اس مومنانہ مطالعے کافائدہ یہ ہوا کہ ہم نے اردو کی شدھ بدھ حاصل کرلی اور بدھو بہرحال نہیں رہے۔اسی مطالعے کی عادت نے رزق روزگا ر کے قابل بنایا ورنہ ڈگری تو بس ڈگری ہوتی چاہے اصلی ہو یا نقلی۔