1 78

کورونا صورتحال اور محکمہ پولیس

ہمارا پورا ملک ہی اس وقت تعطل کا شکار ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں دفعہ144 نافذ کر دی گئی ہے اور حکومت کی مدد کرنے کو فوج بھی طلب کی جا چکی ہے۔ ممکن ہے کہ آنیوالے دنوں میں شہروں میں نگرانی مزید سخت کر دی جائے۔ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور سب کو ڈیوٹی پر حاضری یقینی بنانے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔ نفری میں اضافے کیساتھ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اسپتالوں کے باہر تعینات کر دیا گیا ہے اور ٹریفک اور پولیس اہلکاروں کو وباء سے بچنے کیلئے حفاظتی ماسکس بھی فراہم کر دئیے گئے ہیں۔ پولیس کو دیگر کئی ہدایات کیساتھ عوامی اجتماعات یا لوگوں کے اکھٹا ہونے پر بھی مکمل پابندی کو یقینی بنانے کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔ البتہ ان تمام ہدایات پر عمل درآمد میں زیادتی کا بھی خدشہ ہے ممکن ہے کہ ہماری معاشرتی تقسیم کے پیش نظر کمزوروں پر تو شدید پابندیاں اور طاقت کا استعمال کیا جاتا رہے البتہ طاقتور کیلئے کوئی ایسی سختی ہی نہ ہو۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پاکستان جیسے ممالک میں ایسی مہلک وباء کے پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن عامہ اور عوام کے تحفظ کے متعلق کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اورقانون نافذ کرنے والوں کے نزدیک یہ سماجی فاصلہ آخر کیا معنی رکھتا ہے۔
ہمارے ہاں تھانے کی سطح کے اہلکار سہولیات اور کم تنخواہوںکے سبب رش سے بھرپور عوامی بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں یہ غیرمحفوظ اور خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تربیت گاہوں سے تھانوں میں تعینات کردہ اضافی نفری کیلئے وہیں کے بیرکوں میں ر ہنے کا انتظام کیا جاتا ہے جہاں اس تنگ سی جگہ پر بیس بیس اہلکاروں کا سکڑ کے سونا ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ ایک طرف تو سینئر سطح کے افسران سرکاری گاڑیوں کا تن تنہا استعمال کرتے نظر آتے ہیں مگر دوسری جانب یہ نچلی سطح کے اہلکار مجرموں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے پولیس موبائل استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ہینڈ سینیٹائزر تو کجا، کئی تھانوں میں تو ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت تک موجود نہیں ہوتی۔
پولیس اہلکار اپنی لمبی ڈیوٹیوں اور غیرصحت بخش ماحول میں کام کرنے کے باعث صحت سے متعلق کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ کراچی میں موجود پولیس ہسپتال جو پہلے ہی سہولیات اور عملے کے فقدان کا شکار تھا، کو قرنظینہ مرکز میں بدلنے کا سوچا جا رہا ہے۔ ویسے بھی اس ہسپتال کی دگرگوں حالت کے سبب کوئی بھی پولیس اہلکار یہاں اپنا علاج نہیںکرانا چاہتا۔
بات کی جائے خواتین پولیس اہلکاروں کی تو موجودہ حالات کے قطع نظر عام دنوں میں بھی انہیں شدید امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر، پولیس اہلکاروں کیلئے فیس ماسک پہننا ضروری ہو چکا ہے البتہ یہی اگر کوئی خاتون اہلکار پہنے تو اسے ”میڈم ڈر گئی ہیں” جیسے تضحیک آمیز جملے سننے کو ملتے ہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود پولیس کو امن وامان کا قیام یقینی بنانے کیلئے نہایت چوکنا رہنا ہوگا۔ ممکن ہے کہ ابتدا میں وسائل کی کمی کے باعث جنم لینے والی بے چینی اور خوف پر تشدد واقعات کا سبب بنے مگر وسط یا طویل مدتی بنیادوں پر یہ صورتحال سائبر کرائم، سٹریٹ کرائم اور منظم جرائم میں اضافے کا بھی سبب بن سکتی ہے اور خطرہ ہے کہ ایسی صورتحال سے نمٹنا اور تفتیش کرنا وسائل کی دیگر جگہوں پر لگائے جانے کے باعث مشکل ہو جائے گا۔
پولیس کو بھی کورونا وائرس کی بنا پر لگنے والی پابندیوں کے باعث دیہاڑی دار مزدوروں کی مجبوریوں کا بخوبی ادراک ہوگا اور جیسے جیسے ان پابندیوں کے باعث بیروزگاری میں اضافہ ہوگا ویسے ویسے جرائم کے مواقعوں اور خوف وہراس میں بھی اضافہ ہونے لگے گا۔ یہ خوف وہراس کی ہوا پولیس پر مزید بہتر کارکردگی کیلئے دباو پیدا کرے گی اور پولیس پہلے ہی سے محدود وسائل کے باعث مزید پس کر رہ جائے گی۔ محکمہ پولیس جیسی سرکاری خدمات، جن کا مقصد ہی عوام کیساتھ رابطہ برقرار رکھنا ہوتا ہے، میں سماجی فاصلے جیسے مطالبات پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور پولیس کو اس بدلتی صورتحال کو ٹھیک سے سمجھ کر اپنے روئیے میں تبدیلی لانا ہوگی اور فی الوقت انہیں یہ کام صوبوں کی مالی امداد کے بغیر ہی کرنا ہوگا۔ ان کا طبی عملے کیساتھ بہتر انداز میں تعاون وقت کی ضرورت ہے۔انہیں خود پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی خاطر ہمدردی اور نرم دلی سے کام لینا ہوگا۔ البتہ اس سب کیساتھ ہمیں اس تمام بحران میں پولیس اہلکاروں کی حفاظت اور بہتری کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ محکمہ پولیس کے حکام کو بھی اپنے ذاتی ایجنڈوں پر عمل پیرا ہو کر ادارے کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بجائے اپنے ماتحتوں میں خوداعتمادی پیدا کرنے اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ہمیں پولیس کے نظام میں ان خامیوں کو دور کرنا ہوگا جو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی جگہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں جلد ہی اس بات پر غور وخوض کرنے کی ضررورت پڑ جائے گی کہ وباء یا کسی قدرتی بحران کے دوران فوجی دستوں کی عوامی مقامات پر تعیناتی امن عامہ کے قیام پر کس طور اثر انداز ہوتی ہے اور یہ تعیناتیاں کس طرح پولیس اور افواج کے درجہ وار تعلقات پر اثر ڈالتی ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ایمرجنسی کی صوتحال کے ختم ہونے پر ہم اپنی پولیسنگ کے اطوار میں کیا تبدیلی دیکھنا چاہیں گے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)