ناکام بیانیے کا احیائ؟

امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کی بیسویں برسی اس بار ماضی سے مختلف ماحول میں منائی گئی ۔اس بار ان حملوں کو یاد کرتے ہوئے ایک احساس شکست نمایاں تھا ۔وہ احساس ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت بھی تھا کیونکہ بیس سال بعد دنیا ایک بار پھر گول گول گھوم کر واپس اسی مقام پر آئی ہے جہاں یہ امریکہ کے افغانستان میں قدم رکھتے ہوئے تھی ۔پگڑیوں ،واسکٹوں اور قمیض شلواروں والے طالبان ایک بار پھر کابل کے محلات کے مکین بن چکے ہیں۔امریکہ افغان سرزمین خالی کرچکا ہے۔بھارت ایک بار پھر کابل کے نئے موسم کو شک اور خوف سے دیکھ رہا ہے۔طالبان اور بھارت کے درمیان دھیمے سُروں میں الزام جواب اور جواب الجواب کا سلسلہ جاری ہے۔طالبان سو باتوں کے جواب میں ”کشمیر نہیں پنج شیر کو فتح کیا ہے” جیسے معنی خیز جملے دہرا کربھارت کو مزید بھڑکا کر لطف لے رہے ہیں۔اسامہ بن لادن قتل کئے جا چکے ہیں مگر ایمن الظواہری ابھی تک پردے کے پیچھے سے بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بھارت ایک بار نائن الیون کی پالیسی کو سقوط کابل کے بعد کے حالات میں بروئے کار لا کر مغربی دنیا کو کشمیر کے حوالے سے اپنا ہمنوا بنانے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے ۔طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے کشمیر پہنچنے اور لشکر طیبہ اور طالبان کے درمیان اتحاد ہونے کے خدشات ظاہر کرکے مغرب کو ایک بار پھر بیس سال پہلے کی طرح شیشے میں اتارا جا رہا ہے ۔ امریکہ میں بھی ایک ذہن ان تاویلات کو قبول کرنے کو تیار بیٹھا ہے ۔انڈیا ٹوڈے چینل پر ایک امریکی کانگریس مین مائیکل والٹز کہہ رہے تھے مستقبل میں لشکر اور طالبان کے روابط کشمیر میں خطرات پیدا کریں گے اس لئے پاکستان کو جواب دہ بنانا چاہئے ۔نائن الیون کو امریکہ کے جڑواں میناروں کا ملبہ اس مقام پر گرا جسے اب گراونڈ زیرو کہا جاتا ہے مگر اس کی معنوی کرچیاں کسی شیشے کے برتن کی طرح دور دور تک بکھر گئیں۔ٹوئن ٹاورز کی تباہی کے اثرات اس حادثے کی تباہی کے مقام نیویارک سے چھ ہزار نو سو تین میل کی دوری پر سری نگراور مشرق وسطیٰ میں فلسطین تک بھی پہنچے ۔افغانستان کے تو چٹیل پہاڑوں تک کا قیمہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔نائن الیون کے بعد
بننے والے ماحول میں اسرائیل نے ایک کے بعد دوسرے فلسطینی مزاحمتی لیڈر کو میزائل ما رکر راستے سے ہٹانے کی حکمت عملی اختیار کی ۔شیخ احمد یاسین کے بعد عبدالعزیز رنتیسی اور کئی اعلیٰ راہنما اس ماحول کا شکار ہوئے ۔امریکہ نے بھارت کے دبائو میں کشمیر پراپنی پالیسی اور اصطلاحات تک تبدیل کردیں ۔امریکہ نے کشمیر پر ظاہری غیر جانبداری کی پالیسی ترک کرکے اپنے سارے انڈے اور جھنڈے بھارت کی ٹوکری میں ڈال دئیے ۔یہی یوٹرن امریکہ کی افغانستان میں کتابِ شکست کا دیباچہ قرار پایا۔اپنا پورا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈالنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان نے امریکہ کو اسی عینک سے دیکھنا شروع کیا جس سے وہ مدتوں سے بھارت کو دیکھتا چلا آیا ہے۔یہیں سے حمید گل کی اس پیش گوئی کے عملی شکل میں ڈھلنے کے عمل کا آغاز ہوگیا ۔28 ستمبر 2001کو امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد منظور کرائی۔جس میں آزادی کی تحریکوں کو بھی دہشت گردی سے جوڑا گیا۔اس قرارداد کا متن یوں تھا ” تمام حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ دہشت گرد تنظیمیں افراد اور گروہ فنڈز جمع نہ کر سکیں ۔مالیاتی اثاثے نہ بنا سکیں اور معاشی ذرائع پیدا نہ کر سکیں ۔سرحدوں پر موثر کنٹرول سے دہشت گرد گروپوں کی نقل وحرکت روکی جائے ۔ایسے افراد جو دہشت گردوں کو مالیاتی وسائل منصوبہ بندی اور مدد یا پناہ فراہم کرتے ہیںقابل تعزیرہوں گے۔اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دیں گے۔تمام رکن ممالکن دہشت گردوں سے متعلق معلومات کا باہمی تبادلہ کریں گے بالخصوص ان کے ایکشن ،نقل وحرکت اور ہتھیاروں کی نقل وحمل سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے”۔یہ قرارداد امریکہ اور اس کے پیچھے چھپے دواتحادیوں بھارت اور اسرائیل کے لئے ایک نعمت ثابت ہوئی ۔انہوںنے نائن
الیون کے تناظر میں منظور ہونے والی اس قرارداد کو اپنے حالات پر منطبق کرکے ایک نیاکھیل کھیلنے کا آغاز کیا۔اس دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی خلیج او بداعتمادی بڑھ گئی اور امریکہ نے پاکستان کے بارے میں بھارت کی معلومات پر انحصار کرنا شروع کیا۔بش ایٹ وار کے نام سے لکھی جانے والی کتاب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ بھارت نے امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جومعلومات فراہم کیں بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔ان میں سب اہم یہ تھی کہ جہادی گروپ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اُچک کر امریکہ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔بھارت کی اس فراہم کردہ اطلاع پر امریکی میڈیا اور حکومتی نمائندوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں طوفان کھڑا کیا ۔جس پر جنرل حمید گل نے افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے کا مشہور زمانہ جملہ کہا تھا۔نائن الیون کے بعد بھارت نے بہت سرعت کے ساتھ امریکہ سے دوضمانتیں حاصل کیں اور دونوں کا تعلق پاکستان سے تھا ۔اول یہ کہ امریکہ کشمیر کو دہشت گردی کی اصطلاح سے باہر نہیں رکھے گا دوئم امریکہ پاکستان سے افغانستان میں رعائت حاصل کرنے کے عوض کشمیر کے معاملے پر کوئی مدد نہیں کرے گا ۔یہ کوشش اس وقت کامیاب ہوتی ہو ئی نظر آئی جب دہلی میں امریکی سفیر رابرٹ بلیک ول نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کشمیر پر پاکستان سے کوئی کمٹ منٹ نہیں ہوئی ۔12جنوری2002کو جنرل مشرف نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا ۔یہ واضح اشارہ بھارت کی جانب تھا ۔اس کے بعد اس سمت میں مرحلہ وار اقدامات کا آغازہوا۔یہیں سے افغانستان میں امریکہ کے قدم نہ جمانے کا آغاز ہوا۔افغانستان میں رہتے ہوئے جنوبی ایشیا کے دوروایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن قائم رکھنے میں ناکامی نے امریکہ کو بیس سال بعد اس ایک بڑی ناکامی سے دوچار کیا ۔امریکہ اگر توازن رکھ پاتا تو افغانستان سے اس کی رخصتی زیادہ باوقار ہو سکتی تھی مگر بھارت کی اصطلاحا ت اور موقف اپنا کر امریکہ نے ایک ایسا جوا کھیلا جس میں ہار یقینی تھی۔