گیارہ سو میں پورے گیارہ سو نمبر

تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں طلبہ کے ریکارڈ توڑ نمبرز لینے پر شدید تنقید اور سوالات اٹھنے کے بعد محکمہ ابتدائی ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کی جانب سے چھان بین کے لئے8رکنی جائزہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جائزہ کمیٹی کو زیادہ نمبرز لینے والے طلبہ کے انفرادی پیپرز اور سابقہ امتحانی نتائج کا ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ پیپر چیکنگ کا معیار جانچنے اور مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لئے سفارشات بھی مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے واضح رہے کہ پشاور تعلیمی بورڈ میں طلبہ کی جانب سے ریکارڈ توڑ نمبرز لینے کے بعد سوشل میڈیا پر چند روز سے بحث چل رہی تھی جس میں گزشتہ روز اس وقت مزید شدت آئی جب مردان تعلیمی بورڈ نے میٹرک اور انٹر کے نتائج میں پشاور بورڈ کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے اور ایک طالبہ نے11سو میں سے11سو نمبرز لے کر نیا ریکارڈ قائم کردیاتعلیمی بورڈز میں مارکنگ کا جو نظام رائج ہے اس حوالے سے بعض نجی کالجوں کے اساتذہ اپنے طلبہ کو جو تفصیلات بتاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کا گر بتاتے ہیں اگر ان کی تفصیلات معلوم ہوں تو حیرت ہوتی ہے اور اس طرح کا عمل ناقابل یقین لگتا ہے مگر جب نتائج آتے ہیں تو شک کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی جہاں تک کرونا سے پیدا شدہ صورتحال اورتھوک کے حساب سے نمبر دینے کے معاملات ہیں اس سے جو صورتحال سامنے آئی وہ غیر متوقع نہ تھا اس حوالے سے انہی صفحات میں توجہ بھی دلائی گئی تھی دراصل حکومت سے لیکر تعلیمی بورڈز تک سبھی کو طلبہ کے جس سخت رد عمل کا خوف تھا اس غیر محسوس دبائو اور خدشات کے باعث اولاً کورس کم کیا گیا پرچے بھی سادہ اور آسان بنائے گئے امتحانی ہالز میں زیادہ سختی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور پھر تعلیمی بورڈزمیں دل کھول کر نمبرز دیئے گئے یہ سوچے بنا کہ فارمولہ لاگو کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ نمبر کا ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے ۔ اب جو انکوائری بٹھا دی گئی ہے وہ جن امور کی نشاندہی کرے گی اس سے قطع نظر محولہ عوامل ان کے دائرہ کار سے باہر ہیں کمیٹی پرچوں کی مارکنگ پر تو رائے دے سکتی ہے لیکن نمبر دینے کی کسی ہدایت اور ذہنی دبائو کا کیسے معلوم کیا جائے گا۔ اس مرتبہ صرف ہمارے صوبے کے تعلیمی بورڈز میں تھوک کے حساب سے نمبرز نہیں دیئے گئے دیگر بورڈز میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا اور تو اور آغابورڈ کا شفاف نظام بھی اس صورتحال اور حالات سے متاثر نظر آتا ہے ۔ یہ کس قدر غیر حقیقت پسندانہ امر ہے کہ کوئی امیدوارگیارہ سو نمبروں میں سے پورے گیارہ سو نمبر حاصل کرے یا پھر ایک دو نمبر کم تین چار پانچ نمبر کم تو درجنوں طلبہ کے نمبر آئے ہیں کسی مضمون کو پڑھانے والے قابل ترین پروفیسر سے بھی اگر اس کے مضمون کا پرچہ دلوایا جائے تو اس امر کا قوی امکان ہے کہ وہ بھی سو فیصد نمبر نہیں لے سکے گا انسانی غلطی کی گنجائش ہرجگہ رہتی ہے مگر یہاں تو کمپیوٹر کوبھی مات دے دی گئی جس کا مذاق اڑانا اور تنقید فطری امرتھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انکوائری کا یہ عمل قانونی طور پر بھی پیچیدہ ہوگا اور امیدواروں کے نمبر اب گھٹائے نہیں جا سکتے ۔ٹاپ پوزیشن لینے والے اور بھاری بھر کم نمبر لینے والے ایسے طلبہ کی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ وہ انٹری ٹیسٹ میں کم نمبر آنے کے باعث سرے سے داخلوں ہی سے محروم رہ گئے یا پھر میرٹ کی ترجیحی فہرست میں کہیں نیچے چلے گئے جو ہمارے نظام امتحانات مارکنگ اور طلبہ کی قابلیت پر سوالات کا باعث ہے نظام تعلیم اور مارکنگ کے نظام کی اصلاح کا تقاضا ہے کہ مختصرسوالات اور مناسب جوابات کا طریقہ اپنایا جائے چند لمبے لمبے سوالات سے طلبہ کی قابلیت جانچنے کی بجائے اگر پوری کتاب سے اخذ مختصرسوالات کی صورت میں پرچہ بنایا جائے تو بہتر ہو گا۔ چیکنگ کے نظام کی اصلاح وقت کا تقاضا ہے اساتذہ کو سوالات ماپ کر نمبر دینے کا طریقہ کار تبدیل کرا کے سوال کے جواب کو پڑھ کر نمبر دینے کا پابند بنانا ہو گا تعلیمی بورڈ ٹاپ کرنے والوں اور ٹاپ ٹوئنٹی میں آنے والے تمام بورڈز کے طلبہ کو ایک اور امتحان دینے کا طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس امتحان کو ٹاپ کرنے والے کو صوبائی سطح کے ٹاپر کا درجہ دیا جائے اس مجوزہ امتحان کا انعقادانٹری ٹیسٹ کے بعد ہوناچاہئے تاکہ اس کے حاصل کردہ نمبر اور بورڈ کے نمبروں کو شامل کیا جائے جس کے بعد خصوصی امتحان میں ان کی شفاف چھان بین اور امتحان لینے کے بعد کامیاب ہونے والے طلبہ کی رینکنگ کی جائے اور ان کو اعزاز دیا جائے یہ ہمارے نظام امتحانات پرعدم اعتماد کی دلیل ہے کہ انٹری ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹ لے کر داخلے دیئے جاتے ہیں وگرنہ ایک امتحان پاس کرنے کے بعد دوسری مرتبہ جانچ کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ماہرین کو نظام امتحانات اور طریقہ امتحانات وتدریس کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے کر تجاویز دینی چاہئیں اور حکومت ان کی سفارشات کی روشنی میں اصلاح کا عمل یقینی بنائے۔