Mashriqyat

مشرقیات

دنیا میں خوشی اور مسرت کی تلاش ہر کسی کو رہتی ہے لیکن عجیب سی بات ہے کہ ریشم و کمخواب کے بستر پر سونے والوں کو نیند نہیں آتی اور ننگے فرش پرسونے والے کی نیند مثالی ہوتی ہے وہ سرہانے پر سر رکھتے سو جاتا ہے ارب پتی بے چین اور سادہ آدمی مطمئن زندگی گزاررہا ہوتا ہے ۔آپ کو قدم قدم پر ایسے دعویدار ملیں گے جن کا دعویٰ ہوگا کہ اس نے زندگی میں جس چیز کی خواہش کی وہ پوری ہوئی، جو مانگا وہ حاصل کیا،زندگی میں کسی قسم کا خلا نہیں ہے،حاصل اور لاحاصل کی الجھنوں سے کبھی اس کا واسطہ نہیں رہا اگر اس بے فکر اور پر سکون زندگی کی کہانی سن کر آپ حیرانگی کے عالم میں اس کی زندگی پر رشک کر رہے ہوں اور اس کو دنیا کا سب سے کامیاب انسان سمجھ کر اپنی زندگی کے سمندر میں خواہشات کی سر اٹھاتی لہروں کو بے سود سمجھ کر حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں تو یقین کریں وہ شخص آپ سے جھوٹ بول رہا ہے اور اب اس کی چرپ زبانی سے متاثر ہوکر دھوکے کا شکار ہوچکے ہیں۔ایسے بزرگ کو جانتا ہوں ۔جس کی ساری زندگی آزمائشوں اور مشکلات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔گزشتہ روز میری ان سے نشست ہوئی تو میں نے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد نہ جانے اچانک کیوں ذہن کے دریچے پر سوچ نے دستک دی ،آپ کو زندگی سے کوئی گلا ہے؟،میں نے سوال داغ دیا ، گویا ہوئے بھائی! زندگی سے کیا گلہ کرنا جب کہ یہ ہے ہی عارضی،یہاں کے دکھ اور درد ، کامیابیاں اور ناکامیاں سب فانی ہیں ۔میں نے ایک سخت زندگی گزاری ہے،میں پچپن کی شرارتوں اور جوانی کے پر آشوب دور سے محروم رہا، لوگ میری زندگی کو عموماً حسرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں مگر تم یقین جانو میری زندگی میں کوئی حسرت باقی نہیں ہے،خدا نے مجھے بہت سی نعمتوں سے نوازا،اچھی صحت ،دوکمروں کا مکان اور فرمانبردار اولاد میرا اثاثہ ہیں۔بس تم یہ سمجھ لو کہ میں اللہ کی تقسیم پر راضی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اطمینان قلب کی نعمت بھی حاصل ہے۔آپ بظاہر اس انسان کی زندگی کو مال و وولت کے پیمانے پر پرکھ کر اسے ناکام قرار دے رہے ہوں مگر یقین جانیں میں اس کو ایک مثالی زندگی سمجھتا ہوں ۔
ہم لوگوں کے ذہنوں میں بچپن سے ہی ایک بات گھول کر پلادی جاتی ہے، اچھی تعلیم تو اچھی نوکری، اچھی نوکری تو بڑا گھر، بڑی گاڑی اور بڑے گھرانے کی لڑکی تمہاری شریک حیات ہوگی جب یہ ساری آسائشیں تمہیں حاصل ہوں گی جبھی تم ایک مثالی زندگی گزار سکتے ہو۔ آپ یقین کریں اس مثالی اور پر سکون زندگی کے حصول کے لیے لوگ دوسروں کا استحصال کرتے ہیں ، دوسروں کو نیچے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ، زیاددہ سے زیادہ مال کمانے اور آسائشوں سے بھری زندگی گزارنے کے لیے حلال اور حرام کا بھی خیال نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے ، تفریق جنم لیتی ہے۔ اگر آپ کو رہنے کے لیے چھت،بھوک کے وقت کھانا اور جسم ڈھانپنے کے لیے مناسب لباس میسر ہوتا ہے اور آپ رب کی تقسیم پر راضی رہتے ہیں تو مان لیجئے آپ ایک مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔ورنہ خواہشات کی آگ کو تو قبر کی مٹی ہی بجھاسکتی ہے!۔