محض شرح خواندگی میں اضافہ سود مند نہیں

پشاور کے مقامی جامعات میں درس وتدریس سے وابستہ اپنے چند دوستوں سے اکثر ملاقات رہتی ہے۔ تعلیم کے مختلف حوالوں اور معاشرے پر اس کے اثرات کو خصوصی طور پہ زیر بحث لاتے ہیں۔ آج کل وہ طالب علموں کے غیر سنجیدہ رویوں اور نظامِ تعلیم کے نتیجہ میں پائی جانے والی صورتحال سے بڑے مایوس ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہم موجودہ صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے اور علوم کے نئے ابواب کوسمجھنے کی مکمل اہلیت نہیں رکھتے۔ اس حوالہ سے وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی علم کی صدی ہے کہ سب حکومتیں ابھی تک ناخواندگی کو کم کرنے میں ناکام چلی آرہی ہیں اور ہر حکومت اک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کر کے اسے خواندگی میں اضافے کا باعث قرار دیتی ہے۔ لیکن اب بھی ملک میں کروڑوں بچے بنیادی تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں۔میں ہمیشہ انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ اپنے آس پاس کی زندگی میں اخلاقی قدروں ، ذہنی رویوں اور سماج کی تقسیم کے نتیجہ میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیںتو پھر یہ کہنا صحیح ہے کہ اگر تعلیم کسی معاشرے کو بہتر نہ بنا سکے تو محض شرح خواندگی میں اضافے کا کوئی فائدہ نہیں۔ملکی تعمیر و ترقی کی پالیسیاں بنانے والوں ، ملک کے چھوٹے بڑے اداروں،عدالتوں اوردرسگاہوں میں ایک بھی ناخواندہ موجود نہیں مگر سب کچھ آپ کے سامنے عیاں ہے۔ اسی لئے توکوئی ناخواندہ ابھی تک نیب زدہ نہیں ۔ ہم اگر اپنے زوال کے پس منظر میں ماضی کی تاریخ دیکھیں تو ہمارے انگریز آقاؤں نے تعلیم کے ذریعے لوگوں کو ذہنی غلام بنایا۔برطانوی نمائندے میکالے نے ایک نیا تعلیمی نظام پیش کیا جس کا بنیادی مقصد فرمانبردار لوگوں کا ایک ایسا گروہ تیار کرنا تھا جو ذہنی طور پر غلام ہو، جو ہر عمل میں حکومتِ وقت کا ساتھ دے اور جو تصور میں بھی اختلاف رائے کی جرأت نہ کر سکے۔انہوں نے پڑھے لکھے افراد کا ایسا گروہ تیار کیا جو حکومت اور عوام کے درمیان ترجمانی کا کام کرتا رہا اور وہ آزادی کے بعد آج بھی بیوروکریٹ کے نام سے ملک کا ایک ستون بنا ہوا ہے۔ سامراجی طاقتیں تعلیم اور زبان کو ہر دور میں ذہنی تسخیر اور بالا دستی کے عمل میں ایک مؤثر ہتھیارکے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔انگریز اپنی ثقافت، زبان، ادب، نظام تعلیم اور طرز زندگی کو خوش نما رنگوں میں پیش کرتا رہا اور ہندوستان کی ثقافت، زبان، ادب اور طرز زندگی کو کم تر دکھانے کے لئے سامراجی ہتھکنڈوں کا استعمال کیا۔
تعلیم ذہن سازی میں ایک بڑا مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لئے معاشی اعتبار سے آسودہ پڑھا لکھا طبقہ جواپنی پہچان اب سول سوسائٹی کے نام سے کر رہا ہے، ہمیشہ مقتدر طبقے کو اپنی خدمات پیش کر کے تعلیم کے ذریعے لوگوں کے ذہن کو قا بو کرنے اور اپنا تسلط جمانے میں کامیاب رہتا ہے۔جامعات سے تعلق رکھنے والے میرے یہ دوست تو اس علم کی صدی کے نئے تقاضوں کا سامنا نہ کرنے اور تعلیمی معیار کی پستی کا گلہ ضرورکرتے ہیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیمی درسگاہوں میں پڑھائی کا وہی پرانا نظام رائج ہے جو نسل در نسل محض سند فراہم کیے جا رہا ہے، جس میں علم کو جامد چیز اور استاد کوواحد ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ ہمارا یہ روایتی تدریسی نظام اب فرسودہ ہوتا جا رہا ہے جو کسی نئی تحقیق کا متحمل نہیں ۔تعلیم کبھی کسی حکومت کی اولین ترجیح نہیں رہی ۔اس نئی صدی میں طالب علموں کو آگے بڑھنے کی مہارتیں درکار ہیں اور ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو معاشرے کے ساتھ ربط رکھتی ہو ۔ صرف شرح خواندگی میں اضافہ کچھ نہیں کر سکتا بلکہ یہ تعلیمی معیار ہے جو معاشرے کی معاشی اورسماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پائیدار ترقی کا تصور ایک تعلیم یافتہ معاشرے کے بغیر ادھورا ہے۔تعلیم ایک معاشرے کو پڑھے لکھے’ کارآمد سوچنے والے افراد کا مجموعہ بنا سکتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جو ہمیں نظریات’ تصورات اور اقدار سے آشنا کرتی ہے۔تعلیم کے ایک اعلیٰ اور جامع تصور میں مہارت کے ساتھ ساتھ رویوں کی نشو و نما بھی شامل ہے۔ ہمیںان عوامل کا بھی جائزہ لینا ہے جو تعلیم کے معیار میں بہتری لا سکیں۔ اس میں تعلیمی ڈھانچہ، نصاب اور امتحانی نظام شامل ہے۔ یہ بھی لازمی ہے کہ اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ان میں تنقیدی اور تخلیقی سوچ کا اجاگر کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح طلبا میں آزادی فکراور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا جائے۔ یہی تعلیم کا اہم مقصد ہے جو ہمارے ہاں ناپید ہے۔ طلبہ کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ ایک باہمی مکالمے میں شریک ہو سکیں اور اپنی گم گشتہ پہچان اور آزادی حاصل کر سکیں۔ ہمارے طلبہ ذہنی طور پر اس قدر باثروت بن جائیں کہ وہ نہ صرف علم کا ادراک کریں بلکہ نئی اور مختلف صورت حال میں اس کا اطلاق بھی کر سکیں اور تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر وہ محض نوکریوں کے حصول میں نہ لگ جائیں بلکہ اپنی تنقیدی سوچ اور جراتِ فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی فرسودہ رسومات کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔ تعلیم کومحض ڈگری کے حصول اور کسی شعبہ میں مہارت حاصل کرنے تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اسے تو طالب علم کی انفرادی زندگی اور پھر معاشرے میں تبدیلی کا ذریعہ ہونا چاہئے۔