اک شجرسایہ دار تھا نہ رہا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ عظیم لوگوں کی زندگیوں میں چند نمایاں خصوصیات کے ساتھ ساتھ تنازعات کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بھی ایک ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت تھے جن کی عظمت کا اعتراف خلائق میں زبان زد عام تھا۔ ان کی شخصیت جہاں بہت سی خوبیوں کا مرجع تھی وہیں انہیں اپنی زندگی کے آخری کچھ حصے میں باد مخالف کے تندوتیز جھونکوں کا بھی سامنا رہا۔ مخالفت کی گرد میں اکثر تنقید اور بسا اوقات طنز کے نشتر چھپے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اصل تعارف ان کی شخصیت کا تحمل تھا۔ ایسے لوگ بالعموم مخالفت کی تندی و تیزی سے نہیں گھبراتے بلکہ ہر آن اپنے اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ عظیم لوگوں کی اصل پہچان ان کے متعین کردہ عظیم مقاصد ہوتے ہیں جن کے حصول کی بے لوث لگن ہی انکا مطمع نظر ہوتی ہے جبکہ باقی ماندہ دنیا کا انکی طرف رجحان چند مخصوص مفادات کا رہینِ منت ہوتا ہے جن کی بنیاد پر کچھ لوگ مداحین کی ذیل میں داخل ہوتے ہیں اور کچھ مخالفت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ایک بے مثال جوہری سائنسدان کی حیثیت سے تسلیم شدہ رہی۔ انہیں پاکستان کی سلامتی اور جوہری بم کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ جنگی نقطہ نظر سے جوہری توانائی کے حصول کا بنیادی مقصد مخالفین کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کے لیے راستہ ہموار کرنا نہیں ہے بلکہ طاقت کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کی جانب سے جنون پر مبنی مہم جوئی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہے۔ پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے لیے جوہری طاقت کے حصول کی اہمیت کو جنوبی ایشیا کی مخصوص حرکیات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ خاص طور پر1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات اور بعد میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ جوہری دھماکوں نے جنوبی ایشیا میں اور خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے مابین طاقت کے توازن کو بری طرح سے متاثر کیا تھا۔ ہماری قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا یہی وہ منظرنامہ تھا جس نے آئندہ سالوں کے دوران بھارت کی جانب سے امکانی جارحیت کے خطرات کے پیش نظر ہماری دفاعی اغراض کے لیے جوہری طاقت کے حصول کو ناگزیر بنا دیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران اپنے اِس موقف پر قائم رہے کہ جنگ کو سرے سے ختم کرنے کی واحد صورت کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے بھرپور تیاری میں پوشیدہ ہے۔ آپ اپنے دشمن کو جارحیت سے تبھی روک سکتے ہیں جب آپ اسے اپنے ناقابل تسخیر ہونے کا مکمل یقین دلا دیں۔ بین الاقومی تعلقات کے اثباتی طبقہ فکر (Positive School of Thought) کا بھی یہی موقف ہے کہ اِس دنیا میں صرف طاقت کا طوطی بولتا ہے جبکہ طاقت سے مراد مخالفین کے ذہن میں مدافعت اور امکانی جوابی اقدام کا ایک نفسیاتی تاثر قائم کرنا ہے تاکہ وہ یکطرفہ جارحیت کے ارتکاب سے باز رہیں۔ دنیا میں جنگ کے تدارک اور تشدد پر مبنی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے ایسے نظریات زمانہ قدیم سے مستعمل رہے ہیں۔ چھٹی صدی قبل مسیح کا مشہور چینی مدبر سن زو (Sun Tzu) جنگی حکمت عملی سے متعلق اپنی نگارشات میں لکھتا ہے کہ فن حرب کی سب سے نمایاں خصوصیت دشمن کو بغیر لڑے زیر کرنا ہے۔ یعنی اصل فتح یہ ہے کہ دشمن پر بغیر لڑے اِس طرح دھاک بٹھائی جائے کہ جنگ اور تشدد کی جڑ کٹ جائے اور آپ کی بقا اور سلامتی پر بھی کوئی حرف نہ آنے پائے۔
ڈاکٹر صاحب بین الاقوامی سیاست میں اِسی اثباتی نقطہ نظر کے حامی تھے۔ یہی وہ طرز خیال تھا جس کے باعث انہیں متعدد مغربی حلقوں اور بعض مقامی طبقات کی جانب سے بھرپور مخالفت کا سامنا رہا ۔ 2003 کے بعد ڈاکٹر صاحب کو مغربی انٹیلیجنس ذرائع کی جانب سے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری بم کی تیاری کے سلسلے میں یورینیم افزودگی کے عمل میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا رہا۔ حتیٰ کہ امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینٹ نے جوہری توانائی کے عالمی پھیلائو کے تناظر میں ڈاکٹر صاحب کو دنیا کی خطرناک ترین شخصیت قرار دیتے ہوئے آپ کو اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے بھی کہیں زیادہ منفی رنگ میں پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحب عالمی بقائے امن کے لیے طاقت کے توازن اور جوہری ہتھیاروں کے حصول میں مغربی اور امریکی اجارہ داریوں کے خاتمے کے حمایتی تھے۔ مغربی قائدین کے دہرے معیارات خود انکے اپنے بیانات سے مترشخ ہیں جن کا محاصل محض یہ ہے کہ تباہ کن جوہری ہتھیار اگر ان کی تحویل میں ہوں تو مذائقہ نہیں، لیکن اگر کوئی دوسرا اپنی بقا کے لیے اِن ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کرے تو ضبط اور اخلاق کے سارے بندھن توڑتے ہوئے بنیادی شخصی احترام کے تقاضے تک پیروں تلے روند دیئے جائیں۔