مشینوں سے انتخاب

جب پارلیمنٹ ہائوس میں داخل ہوتے ہوئے کراچی سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے ہنستے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہ آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہیں اور انتہائی اہتمام سے لائے گئے ہیں تو صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اب بھی ناراض ہیں۔ کیونکہ خود انہوں نے اس گفتگو سے قبل ٹوئٹ کے ذریعہ گلہ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا وزیر اعظم ہر ممبر سے مل رہے ہیں لیکن کراچی کی آئیکن کے لئے وقت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لئے کراچی کے سب سے اہم نشست پر ایم کیو ایم کے اپنے ہی پرانے ساتھی کو شکست دے کر وہ سیٹ جیت کر لائے جبکہ ہر موقعہ پر خاتون اول کا دفاع کیا۔ پھر پارلیمنٹ اجلاس میں جب انہوں نے یہ بیان دیا تو وزیر اعظم عمران خان نے انہیں بلایا اور ملاقات کی۔ اس کے بعد خوشی خوشی وہ تصاویر بھی شیئر کیں۔ لیکن اہم بات یہ کہ اپنے اس بیان سے عامر لیاقت نے اسٹیبلشمنٹ کو جو بدنام کیا اس کے بعد ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کو موقعہ ملا اور باقاعدہ ٹرینڈ چلا کہ”ہم لائے گئے ہیں”اس میں کوئی شک نہیں کہ سنجیدہ حلقے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن بہرحال وہ ایک منتخب عوامی نمائیندے ہیں اس لیئے بات ریکارڈ پر آ تو گئی۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملہ پر سراپا احتجاج ہے۔ اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف نے تو شاید زندگی میں پہلی بار انتہائی سخت بیان دیا۔ لیکن سب سے اچھا بیان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے دیا۔ انہوں نے بیان دیا کہ جتنی سختی سے یہ بیج بو رہے ہیں اس کا پھل کوئی اور لے جائے گا۔ دراصل کہانی یہیں جڑی ہے۔ گو کہ الیکٹرانک ووٹنگ الیکشن کے حوالہ سے بل قومی اسمبلی سے پاس بھی ہوگیا ہے اور وزیراعظم بھی اس کو اپنی فتح سمجھ رہے ہیں لیکن درحقیقت اس قانون کی منظوری اداروں کی خواہش ہے۔ دراصل جس طرح ہر الیکشن میں اداروں کو گھسیٹا جاتا ہے اور خصوصاً 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی آوازیں اٹھیں اور جس طریقہ سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مہم چلائی گئی خود ادارے اب یہ چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ان کا نام اس طرح نہ اچھالا جائے۔ زرادری صاحب کے بیان کے بعد اگر ایسے ہوتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں کوئی اور سیاسی جماعت کپ اٹھا کر لے جائے تو کپتان کیا کہے گا؟ کیا کرے گا؟ ساری گیم چالیس پینتالیس نشستوں کی ہوتی ہے اور کوئی بھی انتہائی آسانی سے نتائج آگے پیچھے کر سکے گا۔ ہاں البتہ الزام مشین پر آئے گا۔ اس لیئے پیپلزپارٹی اس وجہ سے اس کی مخالفت نہیں کر رہی کہ اس طرح تحریک انصاف دوبارہ انتخاب میں دھاندلی کر سکتی ہے بلکہ اس سارے عمل پر ان کا عدم اعتماد ہے ۔ ویسے بھی ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ ڈھنگ سے کاغذ کا ووٹ ہاتھ سے صحیح طریقے سے نہیں ڈال پاتے وہاں الیکٹرانک مشین پر باآسانی کون ووٹ ڈال پائے گا۔ پھر ہمارے ہاں بجلی اور انٹرنیٹ کی جو حالت ہے اس کے بعد یہ خدشہ تو موجود رہے گا کہ اگر سسٹم بیٹھ گیا تو کیا ہوگا۔ ایسا گزشتہ الیکشن میں ہو چکا ہے۔ پھر لاکھ شفافیت ہو جو ہارے گا وہ شدت سے میدان میں اترے گا۔ بلکہ خدشہ ہے کہ خود تحریک انصاف آپ کو سڑک پر نظر آئے۔ جہاں تک ہماری قابلیت کی بات ہے تو ہمارے نظام کو تو ہندوستانی ہیکرز بھی ہیک کر سکتی ہیں۔ حال ہی میں ہمارے نیشنل بینک تک کو ہیکرز نے بخشا اور ہیک کر دیا تھا اور اس سے نیشنل بینک کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ حال ہی میں نوٹیفیکیشن کے جس مسئلہ پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین دوریوں کا تاثر پھیلا اور یہ نہیں کہ دشمنی ہو گئی لیکن ناراضگیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اس کے بعد خود حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں خصوصاً (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی طرف سے بیانات آئے اس کے بعد تو لگنے لگا تھا کہ حکومت گئی کہ بس گئی۔ اپوزیشن تو ایک عدد تحریک اعتماد کا سوچ رہی تھی۔ خیال یہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ جاننے کے لیئے ایک تحریک اعتماد لائی جائے اگر وہ کامیاب ہو گئی تو کنفرم ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ اب ان کے ساتھ ایک صفحہ پر نہیں رہی۔ بصورت دیگر سینٹ میں تو پہلے بھی وہ مار کھا چکے ہیں۔ باقی احوال تو آپ نے ڈاکٹر عامر لیاقت کے منہ سے سن ہی لیا ہوگا۔ اس لئے یہ مت سمجھئے کہ یہ تحریک انصاف کا دیرینہ سپنا ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اسی نظام کے تحت ہونے والے الیکشنز کے خلاف سب سے پہلے تحریک انصاف آپ کو مستقبل میں روڈوں پر نظر آئے۔ ایک اور منظرنامہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس نئی قانون سازی کے حوالہ سے مستقبل میں جو بھی تنازغات جنم لیں گے تحریک انصاف ہی ہدف تنقید بنے گی۔ مثلاً سٹیٹ بینک کے گورنر کے اختیارات کے حوالہ سے جو قانون سازی ہو رہی ہے خود کئی اقتصادی ماہرین اس کو آئی ایم ایف کی جانب سے ملکی اقتصاد کو دی جانے والی زہر کی گولی قرار دے رہے ہیں۔ اس طرح یہ جو بھارتی جاسوس کلبھوشن کی عدالتی کارروائی کے حوالہ سے جس قانون سازی کا چرچا ہے کل کو یہ ساری چیزیں اگر تحریک انصاف کے گلے پڑتی ہیں تو کیا انہوں نے سوچا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہوں گے۔ اس لیئے عرض یہ ہے کہ پارٹی تو چلے گی لیکن کیسے چلے گی یہ فی الوقت وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ بات تو طے ہے کہ جس طرح چل رہی ہے کم ازکم اس طرح نہیں چلے گی۔