سری لنکن فیکٹری منیجر قتل

توہین مذہب کا الزام، سری لنکن فیکٹری منیجر قتل، ہجوم نے نعش جلادی

ویب ڈیسک : پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک غیر ملکی شہری کو تشدد کرکے ہلاک کرنے کے بعد اس کی نعش کو آگ لگا دی ہے۔

سیالکوٹ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکٹری میں بحیثیت ایکسپورٹ مینجر کے خدمات انجام دے رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق صبح ہی سے فیکٹری کے اندر یہ افواہیں گرم تھیں. کہ پریانتھا کمارا نے توہین مذہب کی ہے۔ یہ افواہ بہت تیزی سے پوری فیکٹری کے اندر پھیل گئی تھی. جس کے بعد فیکٹری ملازمین کی بڑی تعداد نے پہلے باہر نکل کر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران ہی لوگ بڑی تعداد میں دوبارہ فیکٹری کے اندر داخل ہوئے اور پریانتھا کمارا پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ انھیں آگ بھی لگا دی۔

ریسیکو 1122 اہلکار کیمطابق جب ہم وہاں پہنچے تو لوگ متاثرہ شخص کو تشدد کرتے ہوئے روڈ پر لے آئے تھے ۔امدادی کارکن کے مطابق جب متاثرہ شخص کو روڈ پر لایا گیا تو اس وقت تک وہ ہلاک ہوچکا تھا۔ مشتعل لوگوں نے اس شخص کو روڈ پر لا کر نذر آتش کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ احتجاج میں کئی لوگوں نے اشتعال انگیز تقاریر کیں تھیں۔ اس دوران مظاہرین میں سے کسی نے کہا کہ چلو خود قصہ صاف کرتے ہیں تو اس کے بعد ڈنڈوں، لاٹھیوں اوراسلحہ سے لیس لوگ فیکٹری کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

واقعہ پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ سیالکوٹ میں فیکٹری پر ہجوم کی طرف سے کیے جانے والے حم لے اور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے شرمناک دن ہے۔ میں سیالکوٹ واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کررہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی غلطی نہ ہونے دیں تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 50 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔