قدیمی تہوار

کیلاش قبیلے کے تاریخی اور قدیمی تہوار چاوموس کا آغاز

ویب ڈیسک :چترال کی حسین وادی کیلاش کے سالانہ تہوار کا آغاز ہو گیا۔ پندرہ روز تک جاری رہنے والے تہوار میں کیلاش کی تینوں وادیوں میں جشن کا سماں ہے۔

فیسٹیول میں گزشتہ روزکیلاش قبیلے کے مذہبی سالانہ تہوار چائوموس میں چوچک سارا زاری منایا گیا۔ جس میں کیلاش قبیلے کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اور چھوٹے بچے اس دن کو منانے کے لئے شام کے اوقات میں جنگلوں میں جاکر دیار کے درختوں سے ٹہنیاں توڑ کر لاتے ہیں اور آگ جلا کر اس آگ میں ڈالتے ہیں اور پھر لڑکیاں اور لڑکے علیحدہ علیحدہ آگ میں سے دھوئیں کے مرغولے اُٹھاتے ہوئے آپس میں مقابلہ کرتے ہیں جس گروہ کے آگ کا دھواں زیادہ اونچائی کو چھوتا ہے وہ گروہ جیت جاتاہے۔ وادی کیلاش میں مختلف مقامات پر چاموس تہوار میں کیلاش قبیلے کے افرادآج جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہونگی اور اسی طرز پر دوبارہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے اور گونا سارا زاری منائیں گے۔

چاموس فیسٹیول میں منائے جانے والے تہواروں میں منڈاہیک اور شارا بیرایک کی رسم بھی شامل ہے۔ شارابیرایک رسم میں کیلاشی اپنے گھروں میں آٹے سے مختلف اشیاء جس میں مارخور، چرواہے، گائے، اپنے بزرگوں کی نشانیاں اور دیگر مختلف چیزیں بناتے ہیں جس کو آگ میں پکانے کے بعد دھوپ میں رکھا جاتا ہے اور تیار ہوجانے کے بعد اس کو اپنے ہمسایوں میں تحفہ کے طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ جس کا مقصد خوشحالی، سالگرہ اور چاوموس فیسٹیول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دوران یہ اپنے رسمی گانے، نغمے گنگنا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ منڈاہیک رسم میں کیلاشی قبیلے کے افراد ہاتھوں میں پائن درخت کی لکڑی میں آگ جلا کر پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں جو ان کے وفات پا جانے والے عزیزو اقارب کی یاد میں ہوتی ہیں۔ کیلاش قبیلے کا منفرد چاموس تہوار 22 دسمبر کو اختتام پذیر ہوگا۔ اس تہوار سے لطف اندوز ہونے اور اس کو دیکھنے کیلئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی اور ملکی سیاح کیلاش قبیلے کا رخ کرتے ہیں۔