مفاہمت سے گریز کی سیاست

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری طرف سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں لیکن یہ فیصلہ ایوان کرے گا کہ انتخابات کب کرانے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی کسی بھول میں نہ رہنا حکومت کی میعاد ایک سال دو ماہ باقی ہیں۔اس جتھے کے سربراہ کو واضح کرتا ہوں کہ تمہاری ڈکٹیشن نہیں چلے گی، یہ فیصلہ ایوان کرے گا کہ کب الیکشن کرانا ہے، اگر تمہارا خیال ہے کہ بلیک میل یا ڈکٹیٹ کرلو گے تو اپنے گھر میں کرو، بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، میں کمیٹی بناسکتا ہوں۔وزیراعظم نے جو انداز بیاں اپنایا ہے اس کی ان سے توقع نہیں تھی دوسری جانب بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت کو چند دن میں ہی جانا ہوتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا سخت فیصلہ جسے وزیراعظم شہباز شریف گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے ٹالے ہوئے تھے وہ خود کرنے اور سیاسی نقصان اٹھانے کے بجائے نگران حکومت کے ذمے چھوڑ جاتے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے استعفوں کا اعلان کرکے عملی طور پر قومی اسمبلی کے بائیکاٹ کا حکومت پوری طرح فائدہ اٹھاتے ہوئے آزادانہ طور پر قوانین میں ترمیم اور قانون سازی کر رہی ہے ایسے میں تحریک انصاف کو یا تو ایوان میں بیٹھ کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے یا اگرپھر تحریک انصاف انتخابات کروانے کے مطالبے میں سنجیدہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے استعفوںکی مطلوبہ طریقہ کار کے تحت تصدیق کرکے استعفوں کو التواء میں رکھنے کا بہانہ ختم کرے نیز صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کے حوالے سے بھی کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنائے نیزسینٹ کے حوالے سے بھی کوئی حکمت عملی وضع کرکے سیاسی بحران میں شدت پیدا کر کے حکومت پر انتخابات کرانے کے لئے دبائو بڑھائے ۔ نیمے دروں نیمے بروں کی پالیسی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی جس سے قطع نظر حکومت اور اتحادی جماعتوںکی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو وہ تذبذب کی کیفیت سے نکل آئے ہیں خاص طور پر لانگ مارچ کے نتیجہ خیزنہ ہونے کے بعد ایوان میں کھڑے ہو کرانہوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ حکومت مدت پوری کرے گی اس ضمن میں آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے سرتسلیم خم کرکے جو بھاری سیاسی قیمت والا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے بھی اس امر کا واضح ا ظہار ہوتا ہے کہ حکومت مدت پوری کرنے میں سنجیدہ ہے ۔تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے لانگ مارچ کے اختتام پر حکومت کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کے اعلان نہ ہونے کی صورت میں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر یلغار کرنے کے لئے جو ڈیڈ لائن دی گئی تھی اس کا ایک دن گزر چکا ہے اس دوران انتخابات کا اعلان ہو جائے تو الگ بات ہے ورنہ یہ تحریک انصاف کی سیاست اور قیادت کے لئے بڑا چیلنج ہو گا اس حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے اس سے قطع نظر بہتر راستہ یہی ہو گا کہ فریقین مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی فارمولہ وضع کرکے ملک کو سیاسی عدم استحکام کی صورتحال سے نکالا جائے۔
وادی تیراہ میںباغ امن میلہ
ماضی میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث سخت متاثرہ علاقہ وادی تیراہ میں باغ امن میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا پرامن اور حسن انتظام کے ساتھ اختتام پذیر ہونا قابل اطمینان لمحہ ہے دہشت گردی کی علامت سمجھے جانے والے علاقے کے عوام اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے جو قربانیاں دی گئیں علاقے کے رونق کی بحالی اس کی خوشگوار کڑی ہے سیاحتی لحاظ سے پرکشش اس پرفضا مقام کا ابھی ٹھیک طرح سے تعارف بھی نہیں ہوا ہے قبل ازیں دشوار گزار قبائلی علاقہ ہونے سڑکوں کی خستہ حالی اور بعد ازاں دہشت گردی سے نمٹنے کی جنگ کے با عث اس علاقے کی سیاحت کا باب بند رہا لیکن اب صورتحال میں خوشگوارتبدیلی آچکی ہے باغ امن میلہ کا انعقاد جہاں قبائلی نوجوانوں کو کھیلوں اور دیگر صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنے کی ایک سنجیدہ سعی ہے وہاں اس میلے سے علاقے میں سیاحت کے نئے باب کا کھلنابھی فطری امر ہو گا حکومت جہاں دیگرعلاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لئے کوشاں ہے وہاں قبائلی اضلاع کے پرفضا مقامات کی سیاحت کی طرف سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے خاص طور پر انتظامات پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

مزید دیکھیں :   ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات