مسعوداظہرافغانستان میں نہیں،افغان طالبان

کابل(مشرق رپورٹ)فغان حکومت نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی افغانستان میں موجودگی سے انکار کردیا۔کچھ روزقبل پاکستان نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کیلئے افغانستان کو خط لکھا تھا۔پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن کے مطابق مسعود اظہر ممکنہ طور پر ننگرہار اور کنڑ کے علاقوں میں ہیں لہٰذا انہیں تلاش کرکے اطلاع دی جائے اور گرفتار کیا جائے۔اب افغان حکومت نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی افغانستان میں موجودگی سے انکار کیا ہے۔طالبان اور افغان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ جیش محمدکے سربراہ مولانا مسعود اظہرافغانستان میں نہیں، وہ پاکستان میں ہی ہیں۔دوسری طرف پاکستان کے قبائلی ضلع کے پاک افغان سرحدی علاقے میں منگل کو ہونے والی فائرنگ کے تبادلے سے متعلق بیان بازی بھی جاری ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ او فوجی ترجمان کے بیان کے بعد کہ فوج پر حملے لئے افغان سرزمین کو استعمال کیا گیا، اب امارات اسلامی افغانستان کے ترجمان بلال کریمی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے سرحد کے قریب فوجی پوسٹ بنانے کی کوشش کی تھی جو ان کے بقول اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کریمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلامی امارت کے اہلکار بات چیت کے لئے سرحد کے قریب گئے تھے لیکن ان پر پاکستانی سائڈ سے فائرنگ کی گئی اور دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گردوں نے افغان سرزمین کو استعمال کیا ہے۔ افغان ترجمان واقعہ میں اپنی فورسز کا ذکر کررہے ہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے حملہ ان کے گروپ نے کیا تھا۔

مزید دیکھیں :   پی ٹی آئی نے ایف آئی اے سے سائفر کی تحقیقات مسترد کردیں