لانگ مارچ روکنے کےلئے رینجرزاورایف سی طلب

پشاور(نامہ نگار)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ستمبر کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کی کال دینے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے لانگ مارچ کیلئے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسلام آباد کو محفوظ بنانے اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کیلئے وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ 30ہزار فرنٹیئر کانسٹبلری اوررینجرز کے اہلکار بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کارکنوں کو ستمبر کے آخری ہفتے میں اسلام آباد لانگ مارچ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے اور اس ضمن میں وہ لانگ مارچ کی کال دے سکتے ہیں عمران خان کے لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کیلئے وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کو افرادی قوت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت نے 30ہزار فرنٹیئر کانسٹبلری اور رینجرز کے اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام صوبائی حکومتوں سے ان کے پاس تعینات فرٹینئر کانسٹبلری اور رینجرز طلب کرلی گئی ہیں ذرائع کے مطابق پنجاب سے 20ہزار اور خیبر پختونخوا سے 4 ہزار فرنٹیئر کانسٹبلری اور 6 ہزار نفری رینجرز مانگی گئی ہے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر تین ہزار فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت نے اس ضمن میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے علاوہ سینکڑوں کنٹینرز بھی اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر لگائے جائیں گے جبکہ داخلی راستوں پر کینٹرز کے ساتھ خندقیں بھی کھودی جائیں گی اسلام آباد پولیس نے اضافی آنسو گیس کے شیل اور آنسو گیس پھینکنے والے ڈرونز بھی منگوائے ہیں۔