کشمیر کی اقتصادی تباہی کا منصوبہ

مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت سے ملانے والی سری نگر جموں شاہراہ پر سیب سے لدے ہزاروں ٹرکوں کی قطاریں ٹریفک جام ،لینڈ سلائیڈز یا کسی وقتی مجبوری کی بجائے ایک طویل المیعاد گہری منصوبہ بندی کا شاخسانہ تھیں ۔وہ منصوبہ بندی جس کا تعلق زراعت اور سیاحت اور دستکاری سے وابستہ بڑی حد تک خودانحصارکشمیر ی قوم کی اس صلاحیت کو دیمک کی طرح چاٹ جانے کی خواہش ہے تاکہ کشمیری عوام بحرانوں اور طوفانوں میںپورے قد اورقوت سے کھڑا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہوکر دہلی کے معاشی دست نگر بن کر رہ جائیں ۔کشمیر میں عوام کی قوت مزاحمت اور خوئے بغاوت کو کچلنے اور ختم کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت کے منصوبہ سازوں نے جو مختلف طریقے اپنائے ان میں ایک کشمیریوں کی خودانحصاری کو ختم کرنا بھی تھا ۔کشمیریوں کو یہ باورکرانا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ ان کا رابطہ کمزور ہوجائے تو وہ گھٹنوں کے بل آسکتے ہیں اس بار بھی عین اس وقت اس شاہراہ پر کشمیری سیب سے لدے ٹرکوں کو روکا گیا جب سیب کی صنعت کے عروج کے دن تھے ۔وادی کشمیر میں سوپورکا شہر سیب کی کاشت کے لئے مشہور ہے اور یہاں ایشیا کی دوسری بڑی فروٹ منڈی قائم ہے ۔اس کاروبار سے ہزاروں افراد وابستہ ہیں ۔سوپور کی اس منڈی سے سیب کے ٹرک جموں سے امرتسر اور دہلی کی منڈی تک جاتے ہیں جہاں سے یہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں برآمد ہوتے ہیںسیب کی صنعت کو کشمیر کی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔یہ صنعت کشمیریوں کی معاشی خودانحصاری کی ایک بڑی علامت کے طور پرجانی جاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دہلی میں ایک مخصوص ذہن اس علامت کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے ۔ایک دور میں کشمیر ی سیب کی صنعت کو تباہ کرنے کے لئے ہماچل میں سیب کی کاشت کا غلغلہ بلند ہوامگر یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔یہ کوششیں آج بھی مختلف انداز سے جاری ہیں۔کبھی ایران کا سیب منگوا کر مارکیٹ کو بھر دیا جاتا اور اسے افغانستان کا ڈیوٹی فری سیب قراردیا جاتاہے۔ اس صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو بھارت کی طرف سے موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دیا گیا ہے مگر کشمیری سیب کو بنگلہ دیش نے اس رعائت کا مستحق نہیں جانا اوراس پر ڈیوٹی عائد ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی حکومت کو اس عمل سے دلچسپی نہیں رہی ۔اس کا مقصد کشمیری سیب کے لئے جگہ محدود کرنا اور تاجروں کو دوسرے آپشنز کی طرف راغب کرنا ہے۔کئی ہفتے تک سیب سے لدے ٹرکوں کو روکنے سے مجموعی طور پر اس صنعت کو پانچ سو کروڑ روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔حد تو کہ وادی کے اندر داخل ہونے والی ٹریفک کو کسی رکاوٹ کے بغیر گزرنے دیا جاتا رہا جبکہ صرف وادی سے سیب لے کر جانے والے ٹرکوں کو ہزاروں کی تعداد میں سڑک پر کھڑا رکھا گیا ۔جس میں بڑے پیمانے پر پھل گل سڑھ بھی گئے ۔کشمیر میں اس صورت حال پر شدید غصے اور ناراضی دیکھی گئی ۔محبوبہ مفتی نے سوپور کی فروٹ منڈی پہنچ کر شاہراہ پر دھرنا دینے اور بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ۔تاجروں نے بھی اس معاملے پر شدید احتجاج کی دھمکی دی ۔کشمیر میں اس اقتصادی معاملے پر ایک زودار تحریک کے سائے پوری طرح منڈلانے لگے تھے۔کشمیریوں کی اجتماعی رائے یہ تھی کہ یہ کشمیر کی فروٹ کی صنعت کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔بھارت کشمیر ی کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی کرکے اس کوشش میں ہے کہ یہ لوگ اس روایتی کاروبار سے دست کش ہوجائیں اور اونے پونے اپنے باغات اور زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہوجائیں کیونکہ یہ بھی کشمیر کو ”فلسطین ” بنانے کا ایک آسان اور تیر بہدف نسخہ ہے ۔2008میں پہلی بار جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آرایس ایس نے وادی ٔ کشمیر کے اقتصادی محاصرے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔وادی سے جانے یا وادی میں داخل ہونے والے مال بردار ٹرکوں کے ڈرائیوروں کو تشدد کانشانہ بنایا جانے لگا اور ٹریفک کو روکا جانے لگا ۔اس کے ردعمل میں وادی میں ”ہماری منڈی راولپنڈی ” کا نعرہ بلند ہوا جس کا مطلب اور مدعا یہ تھا کہ کشمیریوں کے تاریخی تجارتی اور سفری راستے سری نگر راولپنڈی روڈ کو کھول کر انہیں راولپنڈی کی قدیم منڈی تک رسائی دی جائے ۔اس مطالبے کی حمایت میں سری نگرسے ایک بڑے ہجوم نے مظفر آباد اور راولپنڈی روڈ پر” راولپنڈی چلو” مارچ کا آغاز کیا ۔یہ جلوس آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا کہ بھارتی فوج نے اس پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں حریت کانفرنس کے معروف راہنما شیخ عبدالعزیز شہید ہوگئے۔تاریخ کے ہردور میں کشمیر کے سفری اور تجارتی راستے کے طور پر سری نگر راولپنڈی شاہراہ کا استعمال ہوتا رہا ہے۔1947میں کشمیر کی تقسیم کے بعد یہ فطری راستہ بند ہوگیا اور یوں کشمیر کا انحصار جموں امرتسر شاہراہ پر ہوگیا جو اس وقت بھی شدید دشوار اور موسمی اثرات کی زد میں رہنے والی سڑک تھی ۔کئی کئی ماہ تک برف باری اور لینڈ سلائیڈز کے باعث یہ سڑک بند رہتی تھی اور اسی کا حل بانہال ٹنل کی صورت میں تلاش کیا گیا تھا ۔اب موسموں کی جگہ ہندو انتہاپسندوں نے اسے وادی کشمیر کے مسلمانوں کو سزا دینے کے ایک آسان ہتھیار کے طور پر اپنانا شروع کیا ہے ۔

مزید دیکھیں :   حاجی غلام علی کونسلر تا گورنر