سول ملٹری تعلقات،ایک نیا آغاز وقت کا تقاضا

سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس اسٹیبلشمنٹ پر تنقیدکی شاید اپنی وجوہات ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سول ملٹری تعلقات کا موضوع کافی عرصے سے زیر بحث ہے، پاکستان میں پہلے کبھی اس موضوع پر اتنی کھل کر بات نہیں ہوئی جتنی کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کی ہے، ہر جلسے اور میڈیا کے ساتھ بات چیت میں ان کے بیانیے کی تلخی میں شدت آتی جا رہی ہے، جہاں انہوں نے بالواسطہ طور پر گزشتہ پانچ ماہ میں متعدد معاملات سے متعلق شکایت کی ہے، وہیں اسٹیبلشمنٹ پر خاص طور پر اس بات پر تنقید کی ہے کہ انہوں نے یقین دہانیاں کروا کر موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا نام اس عہدے کیلئے قبول کرایا، عمران خان نے اپنے پارلیمانی اتحادیوں کو بعض بلوں اور قومی اسمبلی میں بجٹ کے حق میں ووٹ دینے پر قائل کرنے کیلئے ایجنسیوں کے استعمال کا اعتراف بھی کیا۔
تقریباً دو سال قبل بھی اسی طرح کی ہلچل مچی تھی جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس موضوع پر عوامی سطح پر بات کی اور نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ نام لے کر بھی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل اپنے اتحادیوں سمیت سب کو حیران کر دیا تھا، عمران خان اور نواز شریف ہی ایسے وزرائے اعظم نہیں ہیں جنہوں نے عوامی سطح پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ، 2011ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قومی اسمبلی میں یہ تقریر کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں ہوسکتی، دراصل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات میں ان کی شدید ناراضی کا اظہار تھی، یہاں تک کہ سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو جنہیں جنرل ضیاء الحق نے چنا تھا، ان کے اختلافات اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ انہیں بعد میں ضیاء الحق نے عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ بند دروازوں کے پیچھے یا خفیہ رابطوں میں بھی شاید بہت کچھ ہوا ہو، فوج نے بھی کئی مواقع پر حکومت پر عوامی سطح پر تنقیدکی، 2017ء میں”ڈان لیکس” کا معامعلے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس ٹویٹ کو بھی تعلقات میں جمود کے حوالے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم آفس کے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا گیاہے، اگرچہ تقریباً 10 دن بعد اس ٹویٹ کو واپس لے لیا گیا تھا ۔
اگرچہ روایتی میڈیا سول ملٹری اختلافات کے عوامی سطح پر اظہار کے بارے میں عموماً محتاط رہا ہے، لیکن اس موضوع پر سوشل میڈیا کا مواد نہ صرف حجم بلکہ شدت کے لحاظ سے بھی کئی گنا بڑھ گیا ہے، اس لئے منتخب قومی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات اب ڈرائنگ روم میں بحث کا موضوع نہیں رہے، ان پر اب کھلے عام بات ہو رہی ہے، لوگ اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں اور بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ پر تنقید بھی کرتے ہیں، اگر آج سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ پر تنقیدی آراء سامنے آرہی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ70 برسوں میں بہت کچھ ہو چکاہے، اس موضوع پر کہا اور لکھا گیا ہے، عمران خان بھی شاید اس احساس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جو عوام میں پہلے سے موجود تھا۔
ماضی کے مسلسل واقعات اور سول ملٹری تعلقات کی موجودہ حالت معاشرے کے تقریباً تمام طبقات کے اندر سنگین نوعیت کی تقسیم پیدا کر رہے ہیں، پاکستان اپنی مسلح افواج کو کمزور کرنے کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا، اگرچہ سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کو اسٹریٹجک طریقے سے حل کرنے کے لیے شاید ہی کوئی ٹھوس کوشش کی گئی ہو۔ اس وقت بھی زیادہ تر بحث اسی بات پر ہے کہ عمران خان کو اس معاملے کو عوام میں اٹھانے سے کس طرح روکا جائے؟
سول ملٹری تعلقات کو متاثر کرنے والے تمام معاملات کو اسٹریٹجک اور غیر جانبدارانہ انداز میں اور دونوں فریقین کے نقطہ نظر اور آئین کومکالمے کی بنیاد بنا کر زیر بحث لانے کی اشد ضرورت ہے، خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس قومی سلامتی کمیٹی کی صورت میں ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی موجود ہے جو اس موضوع پر بحث کا آغاز کرا سکتا ہے۔ پہلے قدم کے طور پر قومی سلامتی کمیٹی میں نمائندگی کرنے والی سول اور ملٹری قیادت کو اس موضوع پر بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے آمادہ اور تیار ہونا چاہیے،کمیٹی اس معاملے پر اجلاسوں میں عمران خان جیسے اپوزیشن رہنماؤں کو بھی مدعو کرے،کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ یہ مسائل ایک یا چند نشستوں میں حل ہو سکتے ہیں، اس کیلئے سخت محنت درکار ہوگی۔
تمام تر کوششوں کا بنیادی مقصد یہی ہونا چاہیے کہ سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں آئین میں ان کے مقرر کردہ کردارکی سختی سے پاسداری کریں، چونکہ اگلے عام انتخابات بھی ایک سال کے اندر متوقع ہیں اور ایک نئی فوجی قیادت بھی ذمہ داریاں سنبھالنے والی ہے، اس لئے یہ مناسب وقت ہے کہ ایک مہذب معاشرے جیسے سول ملٹری تعلقات کیلئے مسائل کو حل کرنے کی تیاری شروع کر دی جائے۔( بشکریہ، ڈان)

مزید دیکھیں :   مشرقیات