صحت کارڈ اور ایم ٹی آئی کا اصلاح طلب نظام

خیبر پختونخوا میں تیسری مرتبہ تحریک انصاف کی حکومت بننے جاری ہے اکثریتی جماعت کے نامزد وزیراعلیٰ نے اپنی سب سے پہلی ترجیح صحت کارڈ کی بحالی قرار دیا ہے صحت کارڈ سے علاج کی مفت سہولیات سے تو کسی کو انکارنہیں البتہ بعض نجی ہسپتالوں میں اس سہولت کوجس طرح ناجائز کمائی کا ذریعہ بنا لیاگیاتھا اور اس سہولت کاجس طرح ناجائز استعمال سامنے آیا تھا اس کی بحالی سے قبل اگر ان عوامل پر توجہ دے کر اس کے ناجائز استعمال کا راستہ روکنے کاکوئی ٹھوس طریقہ کار وضع ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ۔ خیبر پختونخوا میں ایک جانب جہاں صحت کارڈ کے تحت مفت علاج کی سہولت متعارف کرائی گئی وہاں ایم ٹی آئی کا طریقہ کار وضع کرکے سرکاری ہسپتالوں میں بھی تبدیلی لائی گئی مگراس کی خامی یہ سامنے آئی کہ نہ صرف یہ کامیاب نہ ہوسکا بلکہ بجٹ میں کئی کئی گنا اضافہ ہوا اور اخراجات و مراعات اتنی بڑھ گئیں کہ اس کی ادائیگی ناممکن ہوتی گئی جہاں صحت کارڈ کی بہتر طریقہ کار کے ساتھ بحالی کی ضرورت ہے وہاں تدریسی ہسپتالوں کے اس نظام اور دیگر خامیوں و خرابیوں کا جائزہ لے کر جامع صحت پالیسی متعارف کرائی جائے تاکہ ایک طرف جہاں عوام کو علاج کی بہتر سہولت میسر آئے وہاں سرکاری خزانے کی رقم بھی ضائع نہ ہو اور مالیاتی بوجھ میں اضافہ نہ ہو۔یاد رہے کہ ایم ٹی آئی اسمبلی ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی اور اس ایکٹ کا جس طرح فائدہ اٹھایا گیا اس کا اسمبلی ہی میں جائزہ و ترمیم اس طرح ہو کہ خامیوں پر قابو پایا جاسکے یا پھرسرکاری ہسپتالوں میں علاج کا پرانا طریقہ کار ہی بحال کیا جائے ۔ بہرحال یہ حکومت اور اراکین اسمبلی کی صوابدید اور دانش کا امتحان ہوگا کہ وہ اس سلسلے میں کیا مناسب سمجھ کر کرتے ہیں اس کے حوالے سے کچھ شکایات اور خامیوں سے ایک قاری نے کچھ اس طرح سے آگاہ کیا ہے کہ پہلے تو اوپی ڈی کا پرچہ حاصل کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔جب پرچہ لیکر اوپی ڈی میں جائیں تو پھر ڈاکٹر کا انتظارہوتا ہے۔پھر ڈاکٹر کا معائنہ الگ مسئلہ ہے ۔جب خدا خدا کرکے معائنہ ہوجانے کے بعد کوئی ٹیسٹ وغیرہ لکھے جاتے ہیں ۔تو اصل امتحان اس وقت شروع ہو جاتا ہے ۔ اس میں مریض کو بھاگنا پڑ تا ہے مریض کو کم از کم تین جگہوں پر انٹری کرانی پڑتی ہے، پھر جا کے کہیں ٹیسٹ کا سیمپل لیا جاتاہے ۔جب ٹیسٹ ہوجاتا ہے تو پھر سے رزلٹ کیلئے قطار میں کھڑا ہونا پڑ تا ہے ۔جب ٹیسٹ لیکر مریض اوپی ڈی۔میں آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وقت ختم ہو چکا ہے یوںمریض کو بادل ناخواستہ پرائیویٹ ڈاکٹر کو فیس پر معائنہ کروانا پڑ تا ہے یا اگلے ہفتے دوبارہ آنا پڑ تا ہے ۔
سرکاری ہسپتالوں میں تو غریب لوگ اس غرض سے علاج کرانے آتے ہیں کہ ٹیسٹ بھی مفت ہوں اور دوائیں بھی ملیں ۔یہ پہلے نظام میں اگر 100 فیصد نہیں تو 50 سے 60 فیصد تو ممکن تھا، لیکن موجودہ نظام میں مفت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔حتی کہ جو ملازمین ان ہسپتالوں سے ریٹائر ہوئے ہیں ان کو بھی entitle ہونے کے باوجود خوار ہونا پڑتا ہے یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ موجودہ نظام میں کیجولٹی میں ٹیسٹ، ایکسرے اور الٹراسائنڈ کیلئے پیسے دینے پڑتے ہیں حالانکہ ایم ایم اے کے دور حکومت میں ایمرجنسی کیسز کا 24 گھنٹے تک مفت علاج ہوتا تھا اور اسکے بعد پیپلزپارٹی اور اے این پی کی حکومت نے ایمرجنسی مریضوں کا ڈسچارج ہونے تک علاج مفت کر دیا تھا ۔ایک ٹیچنگ ہسپتال کے فارماسسٹ جو اب ریٹائر ہوئے ہیں کے مطابق،چند سال پہلے ایک بڑے ہسپتال پورے سال کا میڈ یسن بجٹ چھ کروڑ روپے ہوا کرتا تھا جس سے سب مریضوں کو مہنگی دوائیاں بھی ہسپتال سے ملتی تھیں،حتی کہ آپریشن کا زیادہ تر سامان بھی سٹور سے ملتا تھا،اور اب بجٹ ایک ارب بیس کروڑ سے زیادہ ہے اور صحت کارڈ اس کے علاوہ ہے لیکن عوام کو پھر بھی مارکیٹ سے دوائیاں اور آپریشن کا سامان خریدنا پڑتا ہے جو حیران کن ہے۔خرابی اور مشکلات کی ایک بڑی وجہ مستقل قومی صحت پالیسی کا نہ ہونا ہے ہر حکومت پانچ سال کے بعد پچھلی حکومت کی پالیسی کو ختم کرکے اپنی پالیسی لے آتی ہے اور یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہتا ہے جسکا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ملتا۔ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہسپتالوں کے ملازمین کا مستقبل محفوظ نہیں ہے یعنی جاب سکیورٹی نہیںہے ملازمین کواپنے مسائل کے حل کے لئے ہڑتالوں اور احتجاج کا سہارا لینا پڑتا ہے جس سے علاج اور مریض دونوں متاثر ہوتے ہیں بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا کے باعث اہلکار دل جمعی کے ساتھ ڈیوٹی نہیں کرتے اور آئے دن ملازمین کو عدالتوں کے چکر بھی لگا نے پڑ تے ہیں۔سب سے بڑی خرابی اس نظام کی یہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کے اخراجات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ملک پاکستان میں جہاں آئے دن تنخواہیں لیٹ ہونے کی وجہ سے ہڑتالیں ہوتی ہیں اور قرضوں پر بجٹ پورا کیا جاتا ہے ۔ان ہسپتالوں کے برعکس پرانے نظام میں پوری ہسپتال کی انتظامیہ 18سے 20عملے پر مشتمل ہوتا تھا اور پورے انتظامیہ کی ایک مہینے کی تنخواہ 18سے 20 لاکھ روپے ہوا کرتی تھی لیکن اب نئے نظام میں یہی انتظامیہ100سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے اور مہینے کی تنخواہ ایک کروڑ 15لاکھ سے زیادہ ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ ان بے جا اخراجات کا بھی جائزہ لے،کیونکہ ایک طرف حکومت بڑ ھتے ہوئے اخراجات کا رونا رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف اتنی تنخواہیں دی جارہی ہیں جس کا مقصد چند افراد کو نوازنے کے علاوہ کچھ نہیںکیونکہ قبل ازیں انہی ہسپتالوں کو ایک ایڈمنسٹریٹر چلاتا تھا اور اس کے ساتھ 18 سے 20 افراد کا عملہ تھا اورہسپتال بخوبی چل رہے تھے، اب یہی ڈیوٹی100سے زیادہ افراد انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیں لیکن اس کی طرف حکومت کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے۔ نگراں حکومت نے کوشش کی تھی کہ اس نظام کو ٹھیک کیا جائے لیکن معاملات عدالتوں میں جانے سے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی آنے والی حکومت کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ہسپتالوں میں آئے دن عوام اور ڈاکٹروں کو جو مشکلات پیش آتی ہیں اس کے ازالے کا جامع نظام وضع کرے اور اس نئے سسٹم کا جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی اب ان ہسپتالوں میں ڈبگری کمیشن مافیا نے بھی پنجے گاڑ دیئے ہیں جسکا بھی تدارک ضروری ہے ۔ اسکے علاوہ بعض ہسپتالوں میں Renovation کے نام پر کروڑوں روپے کا غبن ہوا ہے ۔اسکی بھی انکوائری ہونی چاہئے ۔ایک قاری کی رائے اور خیالات سطحی ہو سکتے ہیں مگر انہوں نے جن امور کی نشاندہی کی ہے وہ ایسے معاملات نہیں جن سے صرف نظراختیار کی جائے طب و صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اور اس نظام کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں کی اکثریت کے مطابق یہ نظام ناکام اور ناقابل عمل ہے جس کے باعث ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹر ملازمتیں چھوڑنے اور قبل ازوقت ملازمت سے سبکدوشی پر مجبور ہوئے ہسپتالوں میں اگر ڈاکٹروں کی قدر نہ ہو اور ان کو افسرشاہی اور ایک قابل اعتراض نظام کے ماتحت کیا جائے تو اس سے ہسپتالوں میں کبھی بھی بہتری نہیں آسکتی اس نظام کی مزید پیچیدگیاں اور خامیاں بھی ہوں گی جن کا طب و صحت کے شعبے کے ماہرین سے جائزہ لینے اور اس ضمن میں سفارشات کی ضرورت ہو گی بنا بریں نئی حکومت کے لئے موزوں یہ ہوگا کہ وہ تمام شکایات اور انتظامات کے ساتھ ساتھ بھرتیوں مراعات تنخواہوں اور لاگت سبھی عوامل کو مد نظر رکھ کر اس پیچیدہ اور شکایات سے بھرپور نظام کا از سر نو جائزہ لے اور اس سے بہتر نظام اور علاج کی سہولتوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ علاج کو سہل بنانے پر بھی توجہ دے اور ایسا نظام متعارف کرایا جائے جوعوام کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے ملازمین بالخصوص ڈاکٹروں اور نرسنگ سٹاف و پیرا میڈیکس سبھی کے لئے قابل قبول اورقابل عمل ہو۔

مزید پڑھیں:  صوبے میں گرینڈ اتحاد