آٹے کی برآمد۔۔۔ دوغلی پالیسی

نگران وفاقی کابینہ نے 2019ء سے آٹے کی برآمد پر عاید پابندی ختم کرنے کی توثیق کردی ہے، اخباری اطلاعات کے مطابق ملک میں گندم کی دستیابی کی صورتحال کے باوجود آٹا برآمد کرنے کی اجازت دی گئی امرواقعہ یہ ہے کہ سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کے باعث گندم اور آٹے کی بیرون ملک ترسیل روکی گئی تھی ، اب تازہ صورتحال اور آٹے ک برآمد پرعاید پابندی کے خاتمے کے بعد افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک اور غیر ملکی اداروں کو آٹا فروخت کیا جائے گا جہاں تک ماضی میں افغان اور وسط ایشیائی ممالک کو آٹے کی ترسیل کاتعلق ہے تو اس حوالے سے دوغلی پالیسی اختیار کی گئی تھی ، ایک تو یہ کہ ماضی میں جب بھی پنجاب حکومت نے ضروری سمجھا ملک کے باقی صوبوںکو گندم اور آٹے سے محروم رکھنے کی غیر قانونی ، غیر اخلاقی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے چھوٹے صوبوں میں قحط کی سی صورتحال کو جنم دیا جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر ہمسایہ ملک اور آگے وسط ایشیائی ریاستوں کو سمگلنگ کے ذریعے آٹے کی ترسیل کے متعلقہ اداروں کے اندرموجود کالی بھیڑوں اور گندم ، آٹے کے ذخیرہ اندوزوں نے ملی بھگت کرکے محاورةً سامنے سے سوئی بھی نہ گزرے پیچھے سے ہاتھی گزرجائیں کے حوالے سے اقدامات جاری رہے ، اب جبکہ نگران حکومت نے پابندی ختم کرکے گویا سمگلنگ تک کی راہ کھول دی ہے ، تاہم اس کا نشانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو نہیں بننا چاہئے اوران صوبوں کو ماضی کی طرح گندم اور آٹے کی ترسیل پرپابندی نہیں لگنی چاہئے۔

مزید پڑھیں:  ٹیکس،ٹیکس اور صرف ٹیکس

رمضان اوراشیائے صرف کی مہنگائی
اردو محاورے کے مطابق ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں کے مصداق ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان کے اس بیان کو اگر پورے صوبے کیلئے پالیسی قرار دیا جائے اور اس حوالے سے مناسب اقدامات اٹھانے پر توجہ دی جائے تو یقیناحکومتی اداروں کیلئے اسے مشعل راہ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان منصور ارشد نے جہاں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کو باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی تلقین کی ہے وہاں عوام کو سستی اشیاء کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔ جہاں تک امن و امان برقرار رکھنے کا تعلق ہے تو یہ تمام متعلقہ سرکاری حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے ،اس لئے اگر ڈی سی ڈیرہ نے اپنے ماتحت افسران کو اس حوالے سے اقدام اٹھانے پر توجہ دینے کی جوہدایت کی ہے وہ ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے، اسی طرح اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کنٹرول رکھنے اور عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی بھی ان افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے ، بدقستی سے ہمارے ہاں رمضان المبارک کے آغاز سے ہی عوام پر مہنگائی مسلط کرکے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی کمی نہیں ہے ،اس لئے متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے بھر میں اپنے اپنے اضلاع میں گراں فروشی کا تدارک کرکے عوام کوسہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دیں۔

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا حکومت کیا کر رہی ہے؟