ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان نے قاضی فائز عیسیٰ نے جو رائے دی ہے اس سے اس نقصان کا تو ازالہ ممکن نہیں جو ہوچکا البتہ یہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے اپنے ادارے کے سابق ججوںکی جانب سے ایک غلط اورنامنصفانہ فیصلے کا عملی اعتراف ضرور ہے جس کاقبل ازیں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ بھی اعتراف کر چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ کا متفقہ تحریری رائے میں کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں میں قانون کے مطابق انصاف نہیں کیا گیا، خود احتسابی کیلئے انتہائی عاجزی سے ماضی کے غلط اقدامات اور غلطیوں کا سامنا کرنا چاہیے، ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کئے بغیر درست سمت میں نہیں جا سکتے، ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کر سکتے۔امر واقع یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں بہت سے ایسے بحران آئے ہیں جو ہنوز لاینحل ہیں اور اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا مشکل امر یہ ہے کہ اس اونٹ کوکسی کروٹ بٹھانے میں اب بھی دبائو ہے جس کا سامنا کرنے کی مزید جرأت مندی کی ضرورت ہو گی، اب بھی یہ عالم طاری ہے کہ ان واقعات کی مکمل سچائی کو تسلیم کرنے کی نوبت نہیں آئی، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 1977 ء میں ایک فوجی بغاوت میں برطرفی اور اس کے بعد 1979ء میں ان کی پھانسی اس فہرست کا حصہ ہے جس کے ملکی تاریخ پراثرات مرتب ہوئے ،اس سلسلے میں بھٹو کے مقدمے کے حوالے سے سپریم کورٹ آبزرویشنز ملکی ،قانونی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں، عدالت عظمیٰ 2011ء میں سابق صدرآصف علی زرداری کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہی تھی جس میں بھٹوکی سزائے موت پرعدالت سے رائے طلب کی گئی تھی،پی پی پی کے بانی کولاہور ہائی کورٹ کے بنچ نے 1974ء میں محمد احمد خان قصوری کے قتل کا مجرم قراردیاتھا ،سپریم کورٹ نے4-3سے ہونے والے فیصلے میں دیا ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس سے پاکستان کے پہلے مقبول منتخب وزیر اعظم کوپھانسی دینے کی راہ ہموار ہو گئی تھی ۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ قانون اصل فیصلے کو ایک طرف رکھنے کاکوئی طریقہ کارفراہم نہیں کرتا چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائزعیسیٰ نے مختصر حکم میں نوٹ کیا کہ بھٹوکے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ ٹرائل اور سپریم کورٹ نے بھی قانون کے بنیادی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اور منصفانہ ٹرائل اور مناسب عمل کا حق نہیں دیا گیا ،نیزسپریم کورٹ کے مشاہدات نے اس بات کی بھی توثیق کی ہے کہ قانونی ماہرین کئی دہائیوں سے کیا کہہ رہے ہیںیعنی یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا انصاف کی دھوکہ دہی تھی اور یہ ایک عدالتی قتل تھا،یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ چار دہائیوں پرانے کیس کو کیوں خاک میں ملایا گیا جب آج بھی صریح ناانصافی ہو رہی ہے، شاید بھٹو کیس پر نظرثانی کرنا انہی ناانصافیوں کی وجہ سے متعلقہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبول منتخب وزرائے اعظم کی بھی تذلیل کی جا سکتی ہے، جیل میں ڈالا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ جب ریاست چاہے تو پھانسی کے پھندے تک بھی پہنچایاجا سکتا ہے۔عدلیہ پر اسی طرح کی تنقید عمران خان کے عدت کیس کیساتھ ساتھ گزشتہ برسوں میں احتساب عدالتوں میں نواز شریف کے بھاگ دوڑ کے بعد بھی ہوئی ہے۔ اسی لئے، جیسا کہ چیف جسٹس نے مختصر حکم میں مشاہدہ کیا، عدلیہ کو”خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ، عاجزی کے ساتھ ماضی کی غلطیوں اور غلطیوں کا بھی مقابلہ کرنا چاہیے”۔داخلی خود شناسی کی یہ ضرورت تمام اداروں میں ضروری ہے، بھٹو کے مقدمے پر سپریم کورٹ کے مشاہدات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ماضی میں ریاست کے ستونوں نے نظریہ ضرورت کے تحت اس آئینی حکم کو کمزور کرنے میں حصہ لیا جس کے تحفظ کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا۔اگرچہ بھٹو کیساتھ ہونے والی سنگین ناانصافی کو واپس نہیں لایا جا سکتا لیکن ریاستی ادارے عہد کر سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے اس گھنائونے باب میں ہونے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔دیکھا جائے تو صرف محولہ مقدمہ ہی نہیں تھا اور جن شخصیات اور وزرائے اعظم نے مزید حالات بھگتے وہ بھی اب ماضی کا حصہ بن گئے جن کا مکمل ازالہ ممکن نہیں ،عدالت عظمیٰ بطور ادارہ کم از کم اس موقع پر اگر یہ ٹھان لے کہ گزشتہ راصلواة آئندہ را اختیار کے مصداق اب نہ تووہ کسی دبائو میں آئے گی اور نہ ہی نظام کے دبائو کا شکار ہو کر انصاف کے تقاضوں کے خلاف کوئی فیصلہ دے گی تو یہ ایک ایسی اچھی ابتداء ہو گی جس کی بنیاد پر عدل وانصاف کی مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے، توقع کی جانی چاہئے کہ عدالت عظمیٰ آئندہ اور موجودہ اہم مقدمات میں نہ صرف خود بلکہ ماتحت عدالتوں کوبھی انصاف اور عدل کے سخت اصولوں پرپابندی یقینی بنائے گی اور نظام انصاف کی اصلاح اور آئندہ کی غلطیوں کا تدارک کسی دبائو میں نہ آکر یقینی بنائے گی اور انصاف کا بول بالاہو گا۔

مزید پڑھیں:  قابل تقلید اقدام