وزیراعظم کی اتحادیوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ملاقات کی.
وزیراعظم عمران خان نے مرکز میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) اور آزاد رکن اسلم بھوتانی سے علیحدہ علحیدہ ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے لیے عشائیہ رکھا گیا ہے جس میں مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے شرکت سے انکار کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور چوہدری برادران آمنے سامنے، ایک ہی روز عشائیے رکھ لیے. عشائیے سے قبل وزیراعظم عمران خان سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے کراچی کے مسائل اور قومی ایشوز پر بات کی جب کہ وفد نے پیٹرول کی قیمتوں اور کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے بجٹ میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اہم ترین صوبہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرسکتے، دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے بھی ملاقات کی جس میں بلوچستان کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں اور ملازمتوں میں کوٹے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسلم لیگ ق کا بھی وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت سے انکار، وزیراعظم نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ بلوچستان اہم ترین صوبہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔
ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اور چیف وہیپ عامر ڈوگرشریک تھے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد میں زبیدہ جلال، احسان اللہ ریکی اور خالد حسین مگسی ملاقات میں شریک ہوئے۔
وزیر اعظم نے اسلم بھوتانی کو مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔